امریکہ نے پاکستان ،چین سمیت دیگر ممالک کی 70 کمپنیوں پربرآمدی پابندی لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26 مارچ 2025) امریکہ نے پاکستان ،چین سمیت دیگر ممالک کی 70کمپنیوں پربرآمدی پابندی لگا دی،ان کمپنیوں پرقومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کرنے پر پابندیاں لگائی گئیں،برطانوی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکی پابندی کی زد میں آنے والی ان کمپنیوں میں 19 پاکستانی، 42 چین اور چار متحدہ عرب امارات سمیت ایران، تائیوان، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کمپنی بھی شامل ہیں۔
امریکی حکومت نے پابندیاں لگانے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جن اداروں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کر رہے ہیں۔یہ بھی بتایاگیا ہے کہ جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہیں ان میں پاکستان سمیت چین، متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کی 70 کمپنیاں شامل ہیں۔(جاری ہے)
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزارت خارجہ کی اردو کی ترجمان مارگریٹ میکلاو¿ڈنے کہاتھاکہ پاکستانیوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
پاکستانی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں ان پر پابندی بارے تاحال فیصلہ نہیں ہواتھا۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ امریکہ میں آباد پاکستانی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامہ کا مقصد امریکہ کو غیر ملکی دہشتگردوں سے محفوظ رکھنا تھا۔ امریکہ میں داخلے کی درخواست دینی ہو تو تمام باتیں درست بتائیں۔ غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخلے کی صورت میں سزاملے گی۔مارگریٹ میکلاوڈ کا مزیدیہ بھی کہنا تھا کہ ویزا پابندیوں سے متعلق ابھی معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سٹیٹ یونین سے خطاب میں پاکستان کے تعاون کو سراہا تھا۔امریکی وزارت خارجہ کی اردو کی ترجمان مارگریٹ میکلاوڈ کایہ بھی کہنا تھا کہ صدرٹرمپ نے 20 جنوری کو صدارتی حکم نامہ جاری کیا۔صدارتی حکم نامہ کے تحت ویزا پروگرام پر ازسر نو نظرثانی کی جائےگی۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان سمیت 43 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں لگانے کی تجویز پر غور شروع کردیا تھا۔جس کی حتمی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیں گے۔اس حوالے سے پابندیاں لگنے سے متاثرہ ممالک کی فہرست سامنے آئی تھی فہرست میں تمام ممالک کو تین کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ریڈ، اورنج اور یلو شامل تھے۔ٹرمپ انتظامیہ کی سرخ فہرست میں افغانستان سمیت 11 ممالک شامل ہیں جن پر مکمل سفری پابندی لگ سکتی تھی۔ اورنج لسٹ میں پاکستان سمیت 10 ممالک کے نام شامل کرنے پر غور کیا گیا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکہ میں پر پابندی ممالک کی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔