Express News:
2026-07-24@14:38:44 GMT

عیدی کی بہار

اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT

عیدین خاص طور پر عیدالفطر کے موقع پر عیدی ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس کا بچوں سے لے کر بڑوں تک  سب کو انتظار ہوتا ہے۔ عیدی کو اگر ایک بیش قیمت تحفہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ تازہ کڑکڑاتے نوٹ اور ان کی خوشبو عید کے دن سب کا موڈ خوشگوار کردیتی ہے۔

مجھے تو اپنے بچپن کی ہر عیدی یاد ہے جب ابو ہمیں پانچ یا دس روپے عیدی دیا کرتے تھے یا زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ پچاس روپے فی بچہ عیدی مل جایا کرتی اور ہم اسی پر خوش ہوجایا کرتے۔ سستی چیزوں کا زمانہ تھا پچاس روپے میں تو بہت سی چیزیں آجایا کرتی تھیں.

کھٹی میٹھی املی، پولکا آئس کریم، میٹھا پان، ٹھنڈی کھوئے والی قلفی، پیسٹری اور جوس باآسانی آجایا کرتے تھے، حتیٰ کہ کچھ پیسے بچ بھی جایا کرتے تھے۔

ابو سے عیدی کے بعد ایک اہم چیز امی کے گلک سے پیسے اکٹھے کرنا ہوتے تھے۔ امی کے پاس ایک مٹی کا گلک ہوا کرتا تھا جس میں وہ روز خرچے سے بچ جانے والے سکوں کو بھر لیتی تھیں اور اس کے بعد پلان یہ ہوتا تھا کہ عیدین یا شب برات پر اسے صحن میں توڑا جائے گا اور جتنے بھی بچے ہیں ان کو کہا جائے گا کہ وہ پیسے لوٹ لیں۔ میرے بڑے بہن بھائی تو گلک کے ٹوٹنے کے انتظار میں ہوتے اور خوب سکے بٹور لیتے لیکن میں اور میری چھوٹی بہن گڑیا وہیں کھڑے منہ بسورتے رہتے۔ جس کے بعد ہمیں امی بعد میں خود سے کچھ پیسے دے دیتیں اور ہمارا رونا بند ہوتا۔ بعد میں ہر تہوار کےلیے نیا گلک خرید لیا جاتا۔

جب ہم لاہور اپنے ننھیال جاتے تو وہاں ماموں اور خالہ سب سے عیدی ملتی اور واپسی پر ٹرین میں سب اپنی اپنی پسند کی چیزیں کھاتے یا ایسا ہوتا کہ خالہ لاہور ہی میں عید کے بعد بازار لے جاتیں اور سب اپنی اپنی عیدی سے اپنے اپنے شوق کے مطابق چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خریداری کرتے، جن میں نئے نئے اسٹائل کے ربڑ، شارپنر، کہانیوں کی رنگین کتابیں،  رنگ برنگے مارکر اور اسی طرح کے اسٹیشنری آئٹم خریدے جاتے۔ ددھیال میں چچا اور پھپھو بھی عیدی دیتے۔

غرض یہ کہ چھوٹی عید ہم بچوں کےلیے خوشی کا موقع ہوتا جب ہمیں پیسے ملنے کی امید ہوتی۔ ہمارے زمانے میں عموماً ایسا نہیں ہوتا تھا کہ ہمیں رشتے داروں سے جو عیدی ملتی ہو وہ ہمارے والدین لے لیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی تھی کہ ایک تو عیدی میں ملنے والی رقم تھوڑی ہوتی تھی اور دوسرا رشتے داروں کے بچوں کو بھی یہی توقع ہوتی تھی کہ انھیں بھی ہمارے والدین سے کم عیدی ہی ملے گی۔

جیسے جیسے بڑے ہوئے عیدی کا ایک نیا تصور سامنے آیا۔ جب میری بڑی بہن کی منگنی ہوئی تو ان کی ہونے والی سسرال سے ان کےلیے اس وقت کے حساب سے قیمتی سوٹ، جوتے، چوڑیاں، میک اپ، مہندی  اور دیگر اشیا بھی آئیں۔ وہ بھی ہم سب چھوٹے بچوں کےلیے ایک نیا تجربہ تھا اور اس وقت ہم بھی ان سب چیزوں کو دیکھ دیکھ کر بہت خوش ہوتے رہے اور دل میں شادی کی امنگ جاگتی رہی لیکن اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ شادی بذات خود ایک بہت بڑی ذمے داری ہے جو کہ ان جوتے کپڑوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔

آج کل کے دور میں عیدی کا تصور بہت حد  تک بدل گیا ہے۔ بچوں کو آج کل دو دو ہزار عیدی بھی دے دی جائے تو وہ خوش نہیں ہوتے لیکن یہ بھی ہے کہ ان کا زمانہ ہمارے زمانے سے بالکل الگ ہے۔ آج کل مہنگائی بھی بہت ہے اور اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بچوں کی اشیا بڑوں کے استعمال کی چیزوں کی نسبت زیادہ مہنگی بھی ہیں۔

جہاں تک رہی عید اور عیدی پر خلوص کی بات، وہ تو اب خال خال ہی نظر آتا ہے لیکن پھر بھی کئی رشتے دار اور دوست احباب بہت مخلص اور ملنسار ہوتے ہیں اور دل  سے عیدی یا عید کے موقع پر تحائف دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی قدر کرنا چاہیے اور ان کی دی گئی عیدی کو دل سے قبول کرنا چاہیے۔ آخر میں رہ گئے وہ کنجوس دوست احباب اور رشتے دار جو جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا کر واٹس ایپ پر تصویر کی صورت میں پانچ ہزار کا نوٹ عیدی  کے طور پر بھیج دیتے ہیں کہ بس بھیا یہی قبول کرلیں ہم بہت دور ہیں آ ہی نہیں سکتے۔

عیدی دینے والے بڑوں کی ایک قسم یہ بھی ہوتی ہے جن سے عیدی مانگی جائے تو وہ بڑی حیرت سے کہتے ہیں ’’کون سی ایدھی بھئی؟‘‘ یہ سن کر بندہ حیرت اور صدمے کے مارے کچھ کہہ ہی نہیں سکتا کہ انھوں نے عیدی اور ایدھی کو کہاں ملا دیا۔ ہم نے تو آپ کو عیدی کی پوری کہانی سنادی، اب آپ یہ بتائیے کہ کیا آپ عیدی لینے والے خوش نصیبوں میں سے ہیں یا ہر عید پر ہماری طرح آپ کی جیب بھی ڈھیلی کروا دی جاتی ہے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور اس کے بعد

پڑھیں:

فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف

میٹا نے فیس بک صارفین کے لیے ایک نئے ویریفکیشن پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اہل صارفین بغیر کسی فیس کے اپنی پروفائل پر ایک خصوصی ویریفائیڈ ٹک حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق اس پروگرام کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ متعلقہ اکاؤنٹ کسی حقیقی انسان کا ہے، جس سے جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی اور پلیٹ فارم پر اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:اپنی انسٹاگرام تصاویر کو میٹا کے اے آئی سے بچانا چاہتے ہیں؟ صرف ایک سیٹنگ تبدیل کرکے خود کو محفوظ بنائیں

میٹا کا کہنا ہے کہ اس عمل کے لیے جدید چہرہ شناختی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، جس کے ذریعے صارف کی سیلفی کا اس کی موجودہ پروفائل تصاویر سے موازنہ کیا جائے گا۔ اگر شناخت کی کامیابی سے تصدیق ہو جائے تو چند منٹوں کے اندر ویریفائیڈ ٹک جاری کر دیا جائے گا۔

ویریفائیڈ ٹک کن افراد کو مل سکے گا؟

کمپنی کے مطابق اس پروگرام سے صرف وہی افراد فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہوگی۔ شناخت کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد یہ ویریفائیڈ ٹک فیس بک کے مختلف حصوں میں صارف کے نام کے ساتھ ظاہر ہوگا۔

البتہ میٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ نشان روایتی ’بلیو ٹک‘ نہیں ہوگا، بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ متعلقہ پروفائل ایک حقیقی فرد کی ہے۔ اس ویریفکیشن کو کسی شخص کی ساکھ، اعتبار یا قابلِ اعتماد ہونے کی ضمانت تصور نہیں کیا جائے گا۔

بلیو ٹک کے لیے سبسکرپشن کب متعارف کرائی گئی؟

یاد رہے کہ میٹا نے فروری 2023 میں میٹا ویریفائیڈ سروس متعارف کرائی تھی، جس کے تحت فیس بک اور انسٹاگرام صارفین ماہانہ سبسکرپشن فیس ادا کرکے بلیو ٹک، اضافی اکاؤنٹ سیکیورٹی اور دیگر خصوصی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں اس سروس کو مرحلہ وار دنیا کے مختلف ممالک میں متعارف کرایا گیا۔

مزید پڑھیں:واٹس ایپ میں یوزر نیم بنانے کی سہولت: سیکیورٹی خدشات کا اظہار اور میٹا کی وضاحت

نیا مفت ویریفکیشن پروگرام اس سبسکرپشن سروس سے مختلف ہے، کیونکہ اس کے ذریعے صارفین کو صرف یہ تصدیقی نشان دیا جائے گا کہ اکاؤنٹ ایک حقیقی انسان کا ہے، جبکہ بامعاوضہ ’میٹا ویریفائیڈ‘ کے ساتھ دستیاب دیگر سہولیات اس پروگرام کا حصہ نہیں ہوں گی۔

جعلی اکاؤنٹس کے خلاف اہم قدم

ماہرین کے مطابق میٹا کا یہ اقدام جعلی اور خودکار اکاؤنٹس کی روک تھام، صارفین کی شناخت کے بہتر تحفظ اور پلیٹ فارم پر شفافیت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اگر یہ پروگرام کامیاب ثابت ہوا تو مستقبل میں مزید صارفین کے لیے شناختی تصدیق کا عمل پہلے سے زیادہ آسان اور تیز ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلیو ٹک جعلی اکاؤنٹس خود کار اکاؤنٹس سبسکرپشن شناختی ٹیکنالوجی فیس بک میٹا وریفائیڈ سروس متعارف

متعلقہ مضامین