انڈوپیسیفک خطے سے جڑے رہنا امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے، امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 10 جولائی کو اپنے پہلے ایشیائی دورے کے دوران جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے اور انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ واشنگٹن اس خطے کو ترجیح دیتا ہے حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں نے اس دورے پر منفی اثر ڈالا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کی وضاحت نے کی ہے کہ انڈوپیسیفک خطے سے جڑے رہنا امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے، امریکا آسیان کا قابل اعتماد شراکت دار ہےاور واشنگٹن اپنے شراکت داریوں کوترک نہیں بلکہ مزید مضبوط کرناچاہتا ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ آسیان خود مختار ریاستوں پر مشتمل ہے، امریکا آسیان ممالک کے ساتھ طویل المدتی تعلقات کو کسی تیسرے فریق کی منظوری کے بغیر آگے بڑھائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کوالالمپور میں 10 رکنی آسیان تنظیم (ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز) کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی، جس میں آسٹریلیا، چین، یورپی یونین، جاپان، روس، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک بھی شریک تھے۔
اس موقع پر مارکو روبیو نے کہا کہ ممکن ہے وہ ملائیشیا میں آسیان کانفرنس کے موقع پر اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کریں، یہ دورہ انڈو پیسیفک پر امریکی توجہ کی تجدید کا حصہ ہے تاکہ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے تنازعات سے ہٹ کر توجہ اس اہم خطے پر مرکوز کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 50 سال کی کہانی کا بڑا حصہ اسی خطے میں لکھا جائے گا۔ تاہم صدر ٹرمپ کی عالمی ٹیرف حکمت عملی نے اس دورے پر منفی اثر ڈالا ہے، جنہوں نے یکم اگست 2025 سے 7 آسیان ممالک بشمول ملائیشیا، جاپان اور جنوبی کوریا پر بھاری محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیر کو ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مارکو روبیو کی ترجیحات میں سیکیورٹی تعاون، جنوبی چین کا سمندر، منشیات، جرائم اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی شامل ہے۔
امریکی حکومت نے جاپان اور جنوبی کوریا پر 25 فیصد ٹیرف، ملائیشیا پر 25 فیصد، انڈونیشیا پر 32 فیصد، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ پر 36 فیصد، جبکہ لاؤس اور میانمار پر 40 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں۔
واشنگٹن کی جانب سے فلپائن پر ٹیرف 17 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر دیا گیا ہے حالانکہ فلپائن امریکہ کا اتحادی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مارکو روبیو نے ا سیان
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک