رجب بٹ کا وہیل چیئر پر عمرہ: ’’کیا چلنے سے بھی معذور ہوگئے؟‘‘ صارفین کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
مشہور یوٹیوبر رجب بٹ ان دنوں ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ حال ہی میں ان پر 295 نامی پرفیوم لانچ کرنے پر مقدس جذبات کو مجروح کرنے کا الزام عائد ہوا تھا، جس کے بعد وہ سعودی عرب پہنچ گئے اور عمرہ ادا کرنے لگے۔ تاہم، ان کا یہ سفر بھی تنقید سے نہیں بچ سکا۔
رجب بٹ اور ان کے خاندان کو صفا اور مروہ کی سعی کرتے ہوئے وہیل چیئرز پر بیٹھے دیکھا گیا۔ چونکہ وہ اور ان کے تمام فیملی ممبران جوان اور صحت مند نظر آرہے تھے، اس لیے سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا واقعی انہیں وہیل چیئرز کی ضرورت تھی؟
سوشل میڈیا پر رجب بٹ کی عمرہ ادائیگی کی پوسٹ پر صارفین نے نہایت تنقیدی تبصرے کیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ’’کیا یہ سب معذور ہیں؟‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے رائے کا اظہار کیا کہ ’’صحت مند اور جوان افراد وہیل چیئر کا استعمال کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ عمرہ کی سہولت کا غلط استعمال نہیں؟‘‘
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ چل سکتے ہیں تو وہیل چیئر پر کیوں بیٹھے ہیں؟ یہ دوسرے حاجیوں کےلیے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
صارفین نے سوال اٹھایا کہ ’’ویسے تو دنیا گھوم رہے ہیں لیکن جہاں دین کےلیے چلنا پڑا تو وہیل چیئر لے لی‘‘۔
یاد رہے کہ سعودی حکام عمرہ اور حج کے دوران معذور یا بزرگ افراد کو وہیل چیئرز کی سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن صحت مند افراد کا اس کا استعمال اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض سمجھا جاتا ہے۔ رجب بٹ اور ان کے خاندان کا یہ اقدام کئی لوگوں کو ناگوار گزرا ہے، جن کا ماننا ہے کہ یہ سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ رجب بٹ پہلے ہی 295 پرفیوم کے معاملے میں قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہیں، اور اب وہیل چیئر کے استعمال پر تنقید نے ان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’’ڈرامہ‘‘ ہے، جبکہ دوسرے سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی انہیں اس طرح کی سہولت درکار تھی۔
اگرچہ عمرہ کے دوران تھکاوٹ کم کرنے کےلیے اضافی سہولیات حاصل کرنا کوئی جرم نہیں، لیکن صحت مند افراد کا وہیل چیئرز کا استعمال معاشرے میں اخلاقیات کے سوال کھڑے کرتا ہے۔ کیا رجب بٹ اور ان کے خاندان نے واقعی ضرورت کے تحت یہ سہولت لی، یا پھر یہ محض ایک ’’آرام دہ‘‘ عمرہ کا طریقہ کار تھا؟ فی الحال انٹرنیٹ صارفین کے درمیان یہ بحث جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وہیل چیئرز وہیل چیئر اور ان کے رہے ہیں
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔