وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ذرائع نے کہا کہ اسلام آباد کے اسپتالوں کو مرحلہ وارسولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا، پہلے فیز میں پمز اسپتال، پولی کلینک سولر توانائی پر منتقل ہوں گے، این آئی آر ایم ، ایف جی اسپتال سیکنڈ فیز میں سولر پر منتقل ہوں گے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارت صحت نے پمز، پولی کلینک سے سولرائزنگ پلان مانگ لیا، پمز، پولی کلینک سولرائزیشن منصوبہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہو گا، پمز، پولی کلینک کی ایمرجنسی، او پی ڈی بلڈنگ، وارڈز سولر پر منتقل ہونگے۔
ذرائع کے مطابق پمز اسپتال، پولی کلینک انتظامیہ سولر توانائی منتقلی پلان تیار کر رہی ہیں، پمز، پولی کلینک کی سولر پر منتقلی سے بلوں کی مد میں کثیر بچت ہو گی، ماضی میں عدم ادائیگی پر متعدد بار پمز، پولی کلینک کی بجلی منقطع ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولی کلینک
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔