سندھ حکومت کا بچوں کی پیدائش کی 100 فیصد رجسٹریشن کو یقینی بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
سندھ حکومت نے بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے 100 فیصد رجسٹریشن یقینی بنانا ہوگی۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ویکسینیشن، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی دلانے میں پیدائش کی رجسٹریشن اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور ضرورت اس بات کی ہے کہ پیدا ہونے والے ہر بچے کو لازمی پیدائشی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔
ترجمان چیف سیکریٹری سندھ کا کہنا ہے کہ میئر کراچی ٹاسک فورس کے چیئرمین مقرر کیے گئے ہیں جبکہ کمشنر کراچی اور دیگر حکام بھی ٹاسک فورس میں شامل ہیں۔
اس سلسلے میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرے گی تاکہ پیدائش کی رجسٹریشن کو لازمی بنایا جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پیدائش، شادی، طلاق اور وفات کی رجسٹریشن سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت محکمہ بلدیات کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں نادرا کے ساتھ تعاون کو بڑھایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیف سیکریٹری کی رجسٹریشن پیدائش کی کو یقینی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔