Daily Mumtaz:
2026-07-24@12:14:10 GMT

شرارتی بچہ باڑ پھلانگ کر وائٹ ہاؤس میں داخل 

اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT

شرارتی بچہ باڑ پھلانگ کر وائٹ ہاؤس میں داخل 

 

امریکی ایوان صدر ”وائٹ ہاؤس“ میں اس وقت حیران کن صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک کمسن بچہ سیکیورٹی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمالی لان کے گرد لگی دھاتی باڑ کے درمیان سے نکل کر اندر داخل ہوگیا۔ واقعے کے فوراً بعد خفیہ سروس (Secret Service) کے اہلکاروں نے فوری اور محتاط ردعمل دیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک سیکرٹ سروس افسر کو بچے کو اٹھائے ہوئے چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بچہ تقریباً شام 6 بج کر 30 منٹ پر باڑ سے گزرا، جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اوول آفس میں نئی آٹو ٹیرف پالیسی کے اعلان کے تقریباً ایک گھنٹے بعد کا وقت تھا۔
سیکرٹ سروس کے ترجمان اینتھونی گوگلیلمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، ’افسران نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بغیر کسی مسئلے کے اس کے والدین سے ملا دیا۔
ویڈیو فوٹیج میں ایک مسلح سیکرٹ سروس افسر کو وائٹ ہاؤس کے لان میں چلتے ہوئے ایک نیلے رنگ کی ہوڈی پہنے چھوٹے بچے کو اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد میں وہ بچہ باڑ کے قریب موجود ایک دوسرے افسر کے حوالے کر دیا گیا۔
ویڈیو کے تبصروں میں کئی افراد نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے سوال اٹھایا، ’سیکرٹ سروس ایجنٹ بچے کو اس طرح کیوں پکڑے ہوئے ہے؟ یہ بہت عجیب لگ رہا ہے۔
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’پہلے افسر کے بچے نہیں ہیں، جبکہ دوسرے افسر کے بچے ہیں، یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سیکرٹ سروس نے بچے یا اس کے خاندان کی تفصیلات جاری نہیں کیں لیکن تصدیق کی کہ معاملہ بحفاظت نمٹا لیا گیا اور کوئی نقصان یا پریشانی کی اطلاع نہیں ملی۔
خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس کے گرد لگی باڑ کو خصوصی طور پر دراندازی کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاہم اس سے قبل بھی کمسن بچے حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کر چکے ہیں۔ سیکرٹ سروس پہلے بھی اس قسم کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کر چکی ہے تاکہ زائرین اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی