وفاقی وزیر داخلہ سے قائم مقام امریکی سفیر کی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، اس سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو ملکر کام کرنا ہوگا، حکومت پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ضمن میں ہمہ جہتی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے قائم مقام امریکی سفیر نے ملاقات کی جس میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات ہوئی، دوران ملاقات جعفر ایکسپریس اور دیگر دہشت گردانہ حملوں کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا گیا۔ قائم مقام امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں جاں بحق افراد کے خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے۔ ملاقات میں پاکستان امریکا تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور سمیت دو طرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف باہمی اشتراک کار بڑھانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی، ملاقات میں رواں سال جون میں کاونٹر ٹیررازم ڈائیلاگ کرانے پر اتفاق بھی ہوا۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری، امریکا کے پولیٹیکل قونصلر زیک ہارکن رائیڈر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی اس موقع پر موجود تھے، قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے طلال چودھری کو وزیر مملکت داخلہ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، اس سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو ملکر کام کرنا ہوگا، حکومت پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ضمن میں ہمہ جہتی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں کہ انہوں نے دہشت گردی کی خلاف جنگ میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا، امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی ملک واپسی میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاک امریکا کاکس کا اجلاس 30 اپریل کو نیو یارک میں منعقد کیا جائے گا۔ وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے لازوال قربانیاں دی ہیں، امریکا کے سٹریٹجک پارنٹر ہیں۔ امریکی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر نے اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تعریف بھی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قائم مقام امریکی سفیر وفاقی وزیر داخلہ دہشت گردی کے میں پاکستان محسن نقوی نے کہا کہ خلاف جنگ کے خلاف رہی ہے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار