عید الفطر کے موقع پر اپنے گھروں کو واپس جانے والے پردیسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتے ہی ٹرانسپورٹ مافیا متحرک ہو گیا ہے اور من مانے کرائے وصول کیے جا رہے ہیں بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر رش بڑھنے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں بے جا اضافہ کر دیا ہے جبکہ حکومتی مشینری بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے مسافروں کا کہنا ہے کہ ہر سال عید پر یہی صورتحال دیکھی جاتی ہے اور کوئی بھی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی پانچ افراد پر مشتمل فیملی کے لیے عید کی خوشیوں پر پہنچنے سے پہلے ہی مشکلات کھڑی ہو جاتی ہیں عام طور پر 1500 روپے کرایہ وصول کیا جاتا تھا لیکن اب یہی کرایہ 2500 سے 3000 روپے تک پہنچ چکا ہے جس سے عام آدمی شدید متاثر ہو رہا ہے مسافروں کی پریشانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں اڈوں سے باہر کھڑی کر کے مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے جس کے باعث کرایوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے صورتحال یہ ہے کہ کئی مسافروں کو بسوں کی چھتوں پر بٹھایا جا رہا ہے جو انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے لیکن متعلقہ حکام اس پر کوئی کارروائی کرتے دکھائی نہیں دے رہے مسافروں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر ٹرانسپورٹ سے فوری نوٹس لینے اور ٹرانسپورٹرز کی من مانیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب گاڑی مالکان کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے کرائے فکس کیے گئے ہیں اور وہ اسی کے مطابق مناسب کرایہ وصول کر رہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے