ذاتی خواہشات کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی سوچ پاکستان سے بے وفائی ہے،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کی ذمے داری سب کی ہے، پوری قوم تقاضا کررہی ہے کہ ہم متحد ہوجائیں، ذاتی خواہشات کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی سوچ پاکستان سے بے وفائی ہے۔
اسلام آباد میں ’رب ذوالجلال کا احسان پاکستان‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی عزت اور وقار کو داؤ پر لگایا جارہا ہے، آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی، آج بھی موقع ہے کہ ہم فیصلہ کرلیں ملک کے مفاد کے لیے ذاتی خواہشات اور اناؤں کو ختم کرنا ہوگا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے معاشی و معاشرتی اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنا ہوگا، دہشت گردی کے خلاف ہم سب کو متحد ہونا ہوگا، اتحاد و اتفاق سے ہی دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کےلیے ہم اپنے ذاتی مفادات اور آنا کو پاکستان کے تابع کریں گے، قدرت نے پاکستان کو معدنیات کی دولت سے نوازا ہے، دہشتگردی کا ایک مقصد پاکستان کو ان وسائل سے استفادہ کرنے سے روکنا ہے، ایسےعناصر کو پاکستان کی ترقی و خوشحالی گوارا نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بخوبی جانتے ہیں دہشتگردوں کو مالی معاونت کہاں سے مل رہی ہے، ہماری افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکی تحفظ کیلئے بڑی قربانیاں دے رہے ہیں، ذاتی اختلاف بھلا کر قومی یکجہتی اور اتفاق ترقی کا واحد راستہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی، معاشی مسائل اور ملک کے اندر موجود تفریق کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی خواہشات کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی سوچ قربانیوں سے بے وفائی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان کے معاشی، معاشرتی اور دہشت گردی کے مسائل حل کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان قربانیاں دی رہی ہیں، اس کے باوجود ملک کے اندر تفریق ہے، مذہبی منافرت ہے، لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے، ذاتی خواہشات آگے لانے کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی جو سوچ ہے وہ بے وفائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عظیم ملک پاکستان کے لیے ہم نے قربانیاں دیں آج وہاں پر ترقی اور خوش حالی کے مناظر کے بجائے تفریق ہے اور اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے ملکی استحکام، عزت اور وقار کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج بھی موقع ہے کہ فیصلہ کریں کہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر اپنی تمام ذاتی خواہشات اور انا کو پاکستان کے تابع کریں، اس سے بڑی پاکستان کی خدمت نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ مملکت خداداد پاکستان کو اللہ نے جوہری قوت سے نوازا ہے، لیکن خدائے بزرگ برتر کا جتنا شکر کریں کم ہے، جس کی کمال مہربانی سے پاکستان 1998ء میں ایٹمی قوت بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی ازلی دشمن ہو یا کوئی قریبی دشمن ہو تو اللہ نے اس قوم کو بہادر فوج کے علاوہ جوہری طاقت عطا فرمائی ہے، دشمن اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کرے تو یہ قوم اسے روند ڈالے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم قوم کی ترقی، یک جہتی اور اتفاق کے لیے اپنے ذاتی اختلافات دفن کریں، ذاتی خواہشات قربان کریں، یہی وہ واحد راستہ ہے، جس سے پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس لیے معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ ہم قرضے لیتے رہیں اور قرض کی زندگی بسر کریں، جب تک ہم پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط قلعہ نہیں بنالیں اس وقت تک ہمیں بھرپور خیال رکھنا ہوگا کہ معاشی آزادی کے حصول تک سیاسی آزادی خواب ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دستور میں کہا گیا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزار سکیں، پاکستان میں کوئی قانون اور ضابطہ قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسی طرح واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے اگر ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے اور پاکستان کو معاشی طاقت بنانا ہے تو اس دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑے گا، جس سے تمام کامیاب ملک گزر چکے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم مل کر آگے چلیں گے تو یہ ملک چند برس میں نہ صرف خطے کے اندر جو ہمارے ہمسایے ہیں انہیں پیچھے چھوڑے گا بلکہ ہم قائداعظم کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے بھائیوں، بہنوں اور بچوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں جو قابض اور ظالم افواج کے ظلم و جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کا وحشیانہ سلسلہ ایک بار پھر شروع کردیا ہے، 50 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یہ سراسر ظلم ہے جو انسانی کی برداشت سے باہر ہوچکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی تک ان کی بھر پور حمایت ہم سب پاکستان کے 24 کروڑ عوام کرتے رہیں گے، دعا ہے مقبوضہ خطوں کے مظلوم مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو اللہ تعالیٰ آزادی عطا فرمائے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان کے دہشت گردی کے بے وفائی ہے پاکستان کو
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔