کاٹلنگ میں دہشتگردوں کیخلاف کارروائی؛ عام شہریوں کی شہادت پر انکوائری کی جائیگی، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ضلع مردان کے پہاڑی علاقے کاٹلنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران عام شہریوں کی شہادتوں کے افسوسناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائے گی تاکہ حقائق سامنے آئیں۔
کاٹلنگ واقعے سے متعلق بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد صوبائی حکومت واقعے سے متعلق اپنا واضح موقف دے گی۔
سٹی @ 10 ، 29 مارچ ،2025
انہوں نے عام شہریوں کی شہادتوں کے واقعے کو قابل مذمت اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی علاقے میں پہلے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں محسن باقر اور عباس جیسے بڑے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سرکاری اطلاعات کے مطابق ہفتے کی صبح اسی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتی ہے، صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ -ہفتہ 29 مارچ, 2025
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام صوبے سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے صوبائی حکومت نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔