WE News:
2026-06-02@23:04:41 GMT

عیدالفطر: عیدی دینے کا رواج کب اور کیسے پڑا؟

اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT

عیدالفطر: عیدی دینے کا رواج کب اور کیسے پڑا؟

عید کے موقع پر جہاں خاص طور پر بچوں میں نئے کپڑے اور جوتے خریدنے اور پھر پہننے کا جوش و جزبہ عروج پر ہوتا ہے۔ وہیں عیدی لینا بھی ان کی عید کی خوشی کو دوبالا کر دیتا ہے۔ اور شاید اس میٹھی عید کا انتظار بچوں کو سب سے زیادہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس عید پر انہیں رشتہ داروں کی جانب سے عیدی ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں طلبا و طالبات کے لیے عیدالفطر کی 17 چھٹیاں، سرکاری ملازمین کو کتنی ہوں گی؟

عید الفطر کے موقع پر عیدی دینے کی روایت ایک خوبصورت اور قدیم رواج ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں میں رائج ہے۔ یہ نہ صرف بچوں کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے بلکہ بڑوں کے درمیان محبت اور اپنائیت کے جذبات کو بھی فروغ دیتی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہےکہ عیدی دینے کی تاریخ کتنی پرانی ہے اور یہ رواج کیوں اور کیسے پڑا۔

عیدی دینے اور لینے کی تاریخ کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ اس کا آغاز مصر سے ہوا، جہاں عید کے موقع پر خلیفہ وقت اپنی فوج کے جرنیلوں اور سپاہیوں کو تحائف دیا کرتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی حکومت کے دیگر امرا نے بھی اپنے ملازمین کو تحائف دینا شروع کر دیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ روایت عام لوگوں میں بھی پھیل گئی اور عید کے موقع پر بچوں اور بڑوں کو تحائف اور پیسے دینے کا رواج بن گیا۔

ایک اور روایت کے مطابق عیدی کا آغاز عثمانی سلطنت میں ہوا، جہاں رمضان کے مہینے میں بچوں کو مٹھائی اور تحائف دیے جاتے تھے۔ عید کے موقع پر یہ تحائف خاص طور پر بچوں کو دیے جاتے تھے، جو وقت کے ساتھ عیدی کی صورت اختیار کر گئے۔ اس دور میں عیدی کی نوعیت دینے والے اور لینے والے کی حیثیت کے مطابق مختلف ہوتی تھی۔اعلیٰ عہدیداروں کو سونے کے سکّے اور کم رتبے والوں کو چاندی کے سکّے دیے جاتے تھے۔

عیدی کی روایت تو بہت پرانی ہے۔ لیکن عیدی دینے کے طریقہ کار میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ سکّوں سے شروع ہونے والی عیدی کی یہ روایت اب نئے کڑک کرنسی نوٹ تک آ پہنچی ہے۔ بچوں کو صرف پیسوں ہی کی خوشی نہیں بلکہ کڑک نوٹ لینے کی خوشی اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بہنوں اور بیٹیوں کو عیدی بھجواتے ہوئے اس عیدی کو دلہن کی طرح سجانا بھی عید کی روایات میں شامل ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ بھی بے شمار طریقے رواج پا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ عیدی صرف ایک تحفہ یا پیسہ نہیں ہے، بلکہ یہ محبت، اپنائیت اور خوشی کا اظہار ہے۔ یہ بچوں کے لیے عید کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتی ہے اور انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ بڑوں کے لیے کتنے اہم ہیں۔ بڑوں کے لیے، عیدی دینے کا مقصد بچوں کو خوش کرنا اور ان کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہونا ہے۔

عیدی کے ایک دوسرے پہلو پر بات کی جائے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ روایت ایسی ہے جو محبت اور اپنائیت کے جذبے کو اجاگر کرتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس روایت میں اتنی چیزیں شامل ہو چکی ہیں، جو بہت سے افراد کے لیے عزت، ذمہ داری اور بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بیٹیوں کو سسرال عیدی بھجوانے کی بھی ایک پرانی روایت رہی ہے، مگر پرانے وقتوں میں لوگ اپنی زمینوں پر اگائی گئی اناج اور دیگر چیزیں جو گھر ہی کی ہوا کرتی تھی، بیٹیوں کو بطور عید دے دیا کرتے تھے۔ لیکن اس رواج کے ساتھ معاشرے کے لوگوں نے بہت سی چیزیں مزید شامل کر دیں ہیں۔ آج کے مہنگائی کے دور میں جہاں اشیا خور و نوش کی قیمتیں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں، بیٹیوں کو عیدی بھجوانا مشکل ہو چکا ہے۔ کیونکہ پہلے تو چاول، چینی اور دیگر اناج گھر کا ہوا کرتا تھا، لیکناب بات صرف اناج تک محدود نہیں رہی بلکہ بیٹی اور داماد اور بچوں کے کپڑے، پیسے اور بھی عید کے بناؤ سنگھار کی چیزیں اس ’عیدی‘ میں شامل ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عیدالفطر کے بعد برطانیہ کے لیے پی آئی اے پروازیں بحال ہونے کی خوشخبری

تحفے تحائف دینے سے محبت بڑھتی ہے۔ لیکن اس طرح کے راجوں کو بے سبب بڑھانا معاشرے میں بہت سے والدین کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ عیدی کا لین دین ضرور کریں، لیکن اس چیز کا خیال رکھا جائے کہ آپ کا لین دین کسی پر بوجھ نہ بنے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رسم رواج عید عیدی مصر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رواج عید کے موقع پر بیٹیوں کو کے ساتھ بچوں کو کی خوشی عیدی کی عید کی

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟