چینی افواج کی مشترکہ مشقیں تائیوان کی علیحدگی پسندی کے خلاف سخت سزا ہے، چینی ریاستی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
بیجنگ :چینی ریاستی کونسل کے دفتر برائے امور تائیوان کی ترجمان جو فنگ لیئن نے کہا ہےکہ چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ایسٹرن تھیٹر کی جانب سے کی جانے والی مشترکہ مشقیں اور تربیت لائی چھنگ ڈہ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر علیحدگی کی کوششوں پر مبنی اشتعال انگیزی کے لئے سخت سزا ہے، یہ تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کے لئے ایک سخت انتباہ ہے جو جان بوجھ کر آبنائے تائیوان میں امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اور یہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے ایک ضروری قدم ہے۔ہم تائیوان کے مسئلے کو حل کرنے اور قومی وحدت کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہیں، اور ہم کسی بھی شخص یا کسی بھی طاقت کو تائیوان کو چین سے الگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور نہ ہی ہم کسی بھی قسم کی تائیوان کی علیحدگی پسند سرگرمیوں کے لئے کوئی جگہ چھوڑیں گے۔واضح رہے کہ ہمارے جوابی اقدامات کی وجہ تائیوان کی علیحدگی پسند سرگرمیاں ہیں، اور ان کا مقصد تائیوان کے ہم وطنوں اور عوام کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تائیوان کے ہم وطن تاریخ کی درست جانب کھڑے ہوں گے، تائیوان کی علیحدگی پسندی اور بیرونی قوتوں کی مداخلت کی پرزور مخالفت کریں گے اور مشترکہ طور پر قومی وحدت اور قومی احیاء کا روشن مستقبل تخلیق کریں گے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تائیوان کی علیحدگی کے لئے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔