چینی افواج کی مشترکہ مشقیں تائیوان کی علیحدگی پسندی کے خلاف سخت سزا ہے، چینی ریاستی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
بیجنگ :چینی ریاستی کونسل کے دفتر برائے امور تائیوان کی ترجمان جو فنگ لیئن نے کہا ہےکہ چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ایسٹرن تھیٹر کی جانب سے کی جانے والی مشترکہ مشقیں اور تربیت لائی چھنگ ڈہ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر علیحدگی کی کوششوں پر مبنی اشتعال انگیزی کے لئے سخت سزا ہے، یہ تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کے لئے ایک سخت انتباہ ہے جو جان بوجھ کر آبنائے تائیوان میں امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اور یہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے ایک ضروری قدم ہے۔ہم تائیوان کے مسئلے کو حل کرنے اور قومی وحدت کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہیں، اور ہم کسی بھی شخص یا کسی بھی طاقت کو تائیوان کو چین سے الگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور نہ ہی ہم کسی بھی قسم کی تائیوان کی علیحدگی پسند سرگرمیوں کے لئے کوئی جگہ چھوڑیں گے۔واضح رہے کہ ہمارے جوابی اقدامات کی وجہ تائیوان کی علیحدگی پسند سرگرمیاں ہیں، اور ان کا مقصد تائیوان کے ہم وطنوں اور عوام کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تائیوان کے ہم وطن تاریخ کی درست جانب کھڑے ہوں گے، تائیوان کی علیحدگی پسندی اور بیرونی قوتوں کی مداخلت کی پرزور مخالفت کریں گے اور مشترکہ طور پر قومی وحدت اور قومی احیاء کا روشن مستقبل تخلیق کریں گے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تائیوان کی علیحدگی کے لئے
پڑھیں:
اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے متعارف کرائی گئی کفایت شعاری اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں ریکارڈ مالی بچت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران نہ صرف اربوں روپے کی بچت ہوئی بلکہ ادارے کو جدید، ڈیجیٹل اور مؤثر نظام کی طرف بھی گامزن کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں کفایت شعاری، مالی نظم و ضبط اور جدید انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جن کے باعث ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔
پارلیمانی نظام کو پیپر لیس پارلیمنٹ کے وژن کی جانب تیزی سے لے جایا جا رہا ہے، جبکہ پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن سے اخراجات میں نمایاں کمی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مزین ادارہ بنانے کی سمت بھی پیش رفت جاری ہے۔ انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے ذریعے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اصلاحاتی اقدامات کے تحت اسامیوں کی تعداد 1725 سے کم کر کے 1344 کر دی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران مزید 80 اسامیوں کے خاتمے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
بیان کے مطابق ملازمین اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کے بجٹ میں اصلاحات کے ذریعے 2 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس پورے اصلاحاتی عمل کے دوران کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بہتر مالی نگرانی اور کفایت شعاری کی پالیسی کے باعث مجموعی طور پر اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔ کاغذ اور ریکارڈ مینجمنٹ کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
جدید انتظامی نظام کے نفاذ سے فیصلہ سازی اور دفتری امور میں بہتری آئی ہے، جبکہ سرکاری ٹرانسپورٹ اور سفری اخراجات کے مؤثر انتظام کے ذریعے بھی نمایاں بچت حاصل کی گئی ہے۔
انتظامی اصلاحات کے ذریعے مزید 2.5 ارب روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال قومی اسمبلی کی اولین ترجیح ہے اور پارلیمنٹ مالی نظم و ضبط اور اچھی حکمرانی کی عملی مثال بن رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصلاحاتی عمل قومی اسمبلی کو ایک جدید، مؤثر اور عوام دوست ادارہ بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق