جیل میں طویل ملاقات، عمران خان نے علی امین گنڈاپور اور سیف کواسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
جیل میں طویل ملاقات، عمران خان نے علی امین گنڈاپور اور سیف کواسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 2 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز) خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ان کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹرسیف کی پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں طویل ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈھائی گھنٹے ملاقات کا محوراسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات تھا اور علی امین، بیرسٹرسیف بانی پی ٹی آئی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کی پیشکش پر نیم رضامندی ظاہر کی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے صوبائی معاملات پربھی بانی پی ٹی آئی کو بریف کیا اور ملاقات میں قیادت پر سوشل میڈیا پرجاری تنقید بھی زیر بحث آئی جبکہ ملاقات میں اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر نظرثانی پر بھی بات ہوئی۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے علی امین اور بیرسٹرسیف کواسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دے دیا اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات میں کسی پیشرفت تک اسے خفیہ رکھنے پر اتفاق ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی سے ایک اور ملاقات کریں گے۔
خیال رہے کہ آج اڈیالہ جیل میں عمران خان سے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ان کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹرسیف نے ملاقات کی تھی۔
علی امین گنڈا پور کی ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور اور نے علی امین سے مذاکرات جیل میں
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔