وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف قانونی اعتبار سے امتیازی سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے، جماعت اسلامی ہند
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 26 کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جو مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو سنبھالنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے وقف ترمیمی بل پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی قابل مذمت اقدام قرار دیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف قانونی اعتبار سے امتیازی سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس بل میں وقف ایکٹ 1995 کی اہم دفعات کو منسوخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو پہلے مسلمانوں کو دوسرے مذہبی برادریوں کی طرح کے حقوق دیتے تھے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کے اوقافی قوانین مذہبی گروہوں کو اپنی جائیدادوں کا خصوصی طور پر انتظام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، یہ ایک اصول ہے جو دوسری برادریوں کے لئے برقرار ہے۔ اس کے مقابلے میں مندر اور دیگر مذہبی ٹرسٹ مختلف قانونی فریم ورک کے تحت اسی طرح کے تحفظات کے زیر اثر آتے ہیں، جو مجوزہ ترامیم کی امتیازی نوعیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بل منتخب طور پر وقف املاک کو نشانہ بناتا ہے، مسلمانوں سے ان کے حقوق چھینتا ہے جبکہ دیگر مذاہب کے اسی طرح کے ڈھانچے کو اچھوتا چھوڑتا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس بل میں وقف املاک کے انتظام میں زبردست تبدیلیاں، حکومتی مداخلت میں اضافہ اور ان کے مذہبی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 26 کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جو مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو سنبھالنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے لاکھوں اعتراضات موصول ہونے کے باوجود حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے مشاورتی عمل کو محض رسمی بنادیا۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر نے مزید کہا کہ بل کی منظوری کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ لگتا ہے، جس سے رائے عامہ غیر متعلق ہے۔ انہوں نے بعض میڈیا اداروں پر جھوٹے بیانیے کے ساتھ عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں بدعنوانی، غیر قانونی قبضے یا وقف املاک کے غلط استعمال پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس کے بجائے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ وقف انتظامیہ کو کمزور کرتا ہے جبکہ کوئی حقیقی اصلاحات پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے صدر نے تمام سیکولر جماعتوں، اپوزیشن لیڈروں، اور یہاں تک کہ حکمراں این ڈی اے کے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف مزاحمت کریں جسے وہ غیر منصفانہ بل کہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ ایسی جماعتوں پر مایوسی کا اظہار کیا جو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں پھر بھی اس قانون کی حمایت کرتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انہیں بی جے پی کے سیاسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکنا چاہیئے اور فرقہ وارانہ سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس بل کی مخالفت کرنے میں ناکام رہے تو تاریخ ان کی دھوکہ دہی کو یاد رکھے گی۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وقف املاک مذہبی اوقاف ہیں، سرکاری اثاثے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف گورننس کو کمزور کرنے اور ریاستی کنٹرول بڑھانے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل غیر جمہوری طریقے سے منظور ہوتا ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء اور دیگر مسلم تنظیموں کی قیادت میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر نے اس بل کو تمام آئینی، قانونی اور پرامن طریقوں سے چیلنج کرنے کا عزم کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ہند کے صدر نے انہوں نے کہا کہ وقف املاک
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ