بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان پر تاجر برادری میں خوشی کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا، جس پر یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر کو کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ ایس ایم تنویر نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صنعت و کاروبار میں تیزی آئے گی۔
اسلام آباد میں صدرایف پی سی سی آئی نے ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہمارا فرض ہے معاشی استحکام کیلئے کام کریں، وزیراعظم کے اعلان پر تاجروں کو آگے آنا چاہئے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ہمیں پیداواربڑھانے کیلئے کام کرنا ہوگا، پیداواری لاگت میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، بجلی کے نرخوں میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے، ملک اچھی سمت میں جا رہا ہے۔
پیٹرن ان چیف ایف پی سی سی آئی ایس ایم تنویر نے کہا کہ آرمی چیف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ڈسکوز کی نجکاری سے 600 ارب کی چوری رکے گی، جنکوز کی فروخت سے 9 ارب روپے قومی خزانے میں ملے، حکومت نے بند جنکوز کو فروخت کیا، ہم نے ثابت کر دیا آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے غلط تھے۔
اس سے قبل فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرز اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے ایس ایم تنویر نے کہا کہ حکومت ملک میں صنعت اور کاروبار کو بحال کرنے میں سنجیدہ ہے اور انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے یو بی جی اور ایف پی سی آئی سے مل کر آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھایا۔
ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے اور وزیر خزانہ نے یو بی جی کے وفد کو بجلی کے نرخ کم ہونے کی نوید دی تھی۔ انہوں نے گزشتہ دس ماہ سے تواتر سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی وکالت کی اور کہا کہ یو بی جی بزنس یونٹی کی خدمت کا مشن جاری رکھے گی۔
ایس ایم تنویر نے اپنے عزم کا اظہار کیا کہ انشاء اللہ ہم بینکوں کی شرح سود کو بھی سنگل ڈیجٹ کرائیں گے۔
لاہور چیمبر نے وزیراعظم کے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد نے کہا کہ یہ دیرینہ مطالبہ تھا جس کی تکمیل کاروباری طبقے کے لیے خوش آئند ہے۔ میاں ابوذر شاد نے کہا کہ اس فیصلے سے برآمدات اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور نائب صدر شاہد نذیر چودھری نے کہا کہ اس سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔
لاہور چیمبر کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کے کاروبار دوست اقدامات معیشت کی بحالی کے لیے کلیدی ہیں اور وزیراعظم کا یہ اقدام معیشت کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔ سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان نے بھی اس فیصلے کو سراہا اور کہا کہ اس سے صنعتی ترقی کو تقویت ملے گی۔
پاکستان بزنس فورم کے خواجہ محبوب نے بیان میں کہا کہ وزیراعظم کے اعلان کردہ بجلی کمی پیکچ کو سراہتے ہیں، مثبت شروعات کی طرف وزیراعظم کا اہم قدم ہے، اس اقدام سےزراعت اورانڈسٹری کو کسی حدتک ریلیف ملے گا۔
خواجہ محبوب نے کہا کہ بزنس کمیونٹی 12روپے یونٹ کمی کی منتظر تھی، امید کرتے ہیں کچھ ماہ بعد بجلی کے نرخ میں کمی کی مزید خوشخبری ملے گی، بجلی بلوں سےغیر ضروری سرچارجز کو بھی ختم کیا جائے، برآمدات کو بڑھانے کے لیے روپیہ کو بھی تگڑا کرنے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بجلی کی قیمتوں میں کمی ایف پی سی سی ا ئی ایس ایم تنویر نے نے کہا کہ کہا کہ اس کہا کہ ا یو بی جی کمی کی
پڑھیں:
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جولائی ۔2026 ) پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے صرف ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ گیا ہے ‘اجلاس یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ایک ارب6کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا جس میں سے صرف13کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی ہے. اجلاس کو بتایا گیاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے (ڈسکوز)کی جانب سے جان بوجھ کر اوورریڈنگ کی اور غیرقانونی طورپر سب سے اضافی بلنگ لاہور الیکٹرک کمپنی لیسکو نے کی جو45ارب روپے ہے.(جاری ہے)
آڈیٹرجنرل آفس کے حکام نے سیکرٹری پاورڈویژن کی جانب سے صارفین سے اووربلنگ کی مد میں حاصل کی جانے والی47ارب81کروڑ روپے کی واپسی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”ڈسکوز“کی جانب سے صرف انہی صارفین کو اووربلنگ کی رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کی واپسی کا عمل پچیدہ‘طویل اور جانبدار ہونے کی وجہ سے صارفین کی بہت کم تعداد اضافی رقم کی واپسی کے لیے ”ڈسکوز“سے رجوع کرتی ہے‘رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے بطور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اتھارٹی نے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا‘رپورٹ میں ”نیپرا“اور پاورڈویژن کے کردار پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر ”ڈسکوز“نے90کروڑ40لاکھ یونٹ کی اووربلنگ کی گئی‘ اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130 گھوسٹ ملازمین کے ناموں پرایک ارب چھ کروڑ نکلوایا گیا کمپنی نے جواب میں بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے میںملوث تین اکاﺅنٹس افسر اورایک فناس ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو برطرف کردیاگیا ہے ‘ان ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں کمپنی نے بتایا کہ اب تک 13کروڑ کی جاچکی ہے. پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تمام ڈسکوزکے ملازین کی تنخواہیں ڈیجٹل طریقے سے ادا کرنے سے ہدایت سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ پاورڈویژن دو تقسیم کارکمپنیوں کوئٹہ الیکٹرک کمپنی اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک کمپنی کے علاوہ باقی تمام ”ڈسکوز“کی مرحلہ وار نجکاری کرنے جارہی ہے . آڈٹ حکام کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپنی نااہلی، لائن لاسز اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر 47 ارب 81 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا‘ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور اوور بلنگ کے ذریعے صرف ایک ماہ کے اندر 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین سے یہ خطیر رقم چھینی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے دانستہ طور پر غلط اور زائد میٹر ریڈنگ کر کے صارفین کو کروڑوں اضافی یونٹس کے بل بھیجے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے ٹیکنیکل نقصانات (لائن لاسز) اور بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عام شہریوں پر اضافی لوڈ ڈال دیا ‘آڈٹ حکام کا کہنا ہے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 45 ارب روپے کی اوور بلنگ کا اعتراف کیاہے اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی میٹرریڈنگ میں ہیراپھیری کا اعتراف کیا ہے . حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بجلی چوری کی وجہ سے مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں 265 ارب روپے ترسیل و تقسیم اور 207 ارب روپے بلوں کی کم وصولی کی وجہ سے ڈوب گئے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈسکوز“میں اربوں روپے ماہانہ کی ہیراپھیریوں میں ان کمپنیوں کے سربراہان اور اعلی افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین شامل ہوتے ہیں‘لیسکو کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے مہنیوں میں اربوں روپے کی اووربلنگ کی ہے تاہم اس کی آڈٹ رپورٹ 2027میں سامنے آئے گی. لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بلنگ امورسے متعلق شعبے کے ایک سابق اعلی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ”ڈسکوز“سب سے زیادہ اووربلنگ گرمیوں کے تین مہینوں جون‘جولائی اور اگست میں کرتی ان مہینوں میں صارفین بجلی کا زیادہ استعمال کررہے ہوتے ہیں اس لیے اکثریت اس ڈاکے پر دھیان نہیں دیتی‘ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے ان تین مہینوں کے دوران ڈویژن کی سطح پر ”ٹارگٹ“مقرر کیئے جاتے ہیں جہاں سے سب ڈویژن کے ذریعے میٹرریڈرزکو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے اضافی یونٹس صارفین کے کھاتے میں ڈالنا ہیں‘انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اب یہ اس لیے نوٹس کیا جارہا ہے کہ بجلی قیمتیں اور ٹیکس غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں اس لیے چند اضافی یونٹس بھی ریکارڈ پر آجاتے ہیں.