راحت فتح علی خان میوزک ٹور کیلئے برطانیہ پہنچ گئے، کہاں پرفارم کریں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پاکستان کے معروف گلوکار راحت فتح علی خان اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔
راحت فتح علی خان برمنگھم، لندن اور مانچسٹر میں اپنے مداحوں کے لئے پرفارم کریں گے۔ لندن میں پریس کانفرنس کے دوران راحت فتح علی خان نے کہا کہ وہ بارہ سال کی عمر میں پہلی بار برطانیہ آئے تھے اور انہیں برطانوی عوام سے خاص لگاؤ ہے۔
A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)
اس ٹور میں راحت فتح علی خان کے ساتھ ان کے صاحبزادے بھی موجود ہیں، جو اس دورے کے دوران پہلی بار بڑے آڈیٹوریم میں پرفارم کریں گے۔ اس کے علاوہ گلوکار وارث بیگ کے صاحبزادے عمار بیگ بھی اس ٹور میں راحت فتح علی خان کے ساتھ شامل ہیں۔
A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)
راحت فتح علی خان نے مزید کہا کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں مہدی حسن، ملکہ ترنم نورجہاں، محمد رفیع، کشور کمار اور لتا منگیشکر کی موسیقی بڑے شوق سے سنتے ہیں۔گلوکار نے اپنے مداحوں سے اپنی پرفارمنس کے لیے بھرپور محبت اور حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راحت فتح علی خان
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔