کیپرا نے رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 37.37 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
گزشتہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کیپرا نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 22.8 ارب روپے جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس کی مد میں 3.74 ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ اسلام ائمز۔ بر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 37.37 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کر لیے جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہیں۔ ترجمان کیپرا کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 26.
گزشتہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کیپرا نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 22.8 ارب روپے جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس کی مد میں 3.74 ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 26 فیصد جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس کی مد میں 129 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ ادارے کی غیر معمولی کارکردگی کا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں جبکہ انفراسٹرکچر گزشتہ مالی سال کے رواں مالی سال کے سس کی مد میں کیے گئے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔