کیپرا نے رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 37.37 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
گزشتہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کیپرا نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 22.8 ارب روپے جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس کی مد میں 3.74 ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ اسلام ائمز۔ بر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 37.37 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کر لیے جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہیں۔ ترجمان کیپرا کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 26.
گزشتہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کیپرا نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 22.8 ارب روپے جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس کی مد میں 3.74 ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 26 فیصد جبکہ انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سس کی مد میں 129 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ ادارے کی غیر معمولی کارکردگی کا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں جبکہ انفراسٹرکچر گزشتہ مالی سال کے رواں مالی سال کے سس کی مد میں کیے گئے
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔