نجی سکیم کے تحت حاجیوں کے بروقت انتظامات اور سعودی پالیسی فالو نہ کرنے پر وزیراعظم کا نوٹس،کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے نجی سکیم کے تحت حاجیوں کے بروقت انتظامات اور سعودی پالیسی فالو نہ کرنے کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق نجی سکیم کے تحت 70 ہزار حاجیوں کے کوٹے کے لئے حاجیوں کے بروقت انتظامات اور سعودی پالیسی فالو نہ کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے 3 رکنی حج انتظامی کمیٹی تشکیل دے دی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی سیکرٹری کابینہ، چیئرمین ایف بی آر اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان پر مشتمل کمیٹی اپنی سفارشات 3 دن کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی کو سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی۔
کمیٹی سعودی عرب کی حج پالیسی کو وزارتِ مذہبی امور و نجی حج آپریٹرز کے ذریعے نافذ نہ کرنے کی تحقیقات کرے گی، کمیٹی وزارت مذہبی امور کی جانب سے نجی حج آپریٹرز کے لئے مطلوبہ رسمی کارروائیاں مکمل کرانے کی کوششوں کا جائزہ لے گی۔
لاہور میں عید کے بعد بھی مرغی، مٹن اور بیف کی من مانی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں ، عوام بلبلا اٹھے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: حاجیوں کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔