پاکستان کا امریکا کے ساتھ شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے گفتگو کی ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان نے امریکا کے ساتھ شراکت داری مضبوط بنانے کا عزم کیا۔
دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں تجارت، سرمایہ کاری اور انسداد دہشتگردی میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی وزیر خارجہ نے مختلف شعبوں میں پاکستان سے تعاون کا اظہار کیا، گفتگو میں معاشی اور تجارتی تعاون کو مستقبل کے تعلقات کی بنیاد قرار دیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کامیاب کوششوں کا اعتراف کیا، افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی ساز و سامان کے مسئلے پر بھی گفتگو کی گئی، دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے اور مشترکہ مفادات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
جموں و کشمیر کے معاملے پر امریکا کی کوئی پوزیشن نہیں، ترجمان محکمہ خارجہ
امریکا نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے معاملے پر فوری طور پر کوئی پوزیشن نہیں لے رہے، دونوں ممالک کے درمیان صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
’بھارت میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں، اس مشکل وقت میں امریکا بھارت کے ساتھ کھڑاہے، حملے میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیں:
ٹیمی بروس نے کہا کہ ہم ان لوگوں کے لیے دعاگو ہیں جن کے عزیز اس واقعہ میں مارے گئے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے متمنی ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنے پہلے دور صدارت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش پر موجودہ حالات کے تناظر میں عملدرآمد ممکن ہوگا؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گزیز کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ پہلے ہی اس معاملے پر اپنا مؤقف بیان کرچکے ہیں، لہذا وہ خود اس معاملے پر مزید کچھ نہیں کہیں گی۔
مزید پڑھیں:
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی حمایت کرتا ہے تاوقت کہ یہ امداد دہشت گردوں تک نہیں پہنچتی، ایران سے مذاکرات کا اگلا دور عمان میں ہوگا، اب تک مذاکرات انتہائی مثبت اور کارآمد رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امدادی سامان امریکا امریکی پہلگام حملہ صدر ٹرمپ عمان غزہ محکمہ خارجہ مقبوضہ کشمیر