کراچی سے ٹورنٹو جانیوالے مسافر سے 2 کروڑ مالیت کی غیر ملکی کرنسی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
سامان کی تفصیلی تلاشی کے دوران 70 ہزار امریکی ڈالر، 2200 کینیڈین ڈالر اور 1 لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے برآمد کیے۔ اسلام ٹائمز۔ اے ایس ایف کے عملے نے کراچی سے ٹورنٹو جانے والی پرواز کے مسافر سے دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مختلف غیر ملکی کرنسی برآمد کر کے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سے ٹورنٹو جانے والی پرواز پر سفر کرنے والے مسافر عرفان الحق کے سامان میں غیر ملکی کرنسی کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی۔ اے ایس ایف اہلکاروں نے سامان کی تفصیلی تلاشی کے دوران 70 ہزار امریکی ڈالر، 2200 کینیڈین ڈالر اور 1 لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے برآمد کیے۔ برآمد شدہ رقم کی مجموعی مالیت دو کروڑ ایک لاکھ پچیس ہزار پانچ سو روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ اے ایس ایف نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی کرنسی بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد ملزم کو برآمد شدہ کرنسی کے ساتھ مزید قانونی کارروائی کیلئے کسٹم حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر ملکی کرنسی
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔