سٹی42:  پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر موسٹ نظریہ ساز لیڈر   کے انتقال کر جانے کی افسوس ناک خبر نے ملک کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر موسٹ سیاسی کارکن اور نظریہ ساز سابق سینیٹر تاج حیدر انتقال کرگئے ہیں۔

تاج حیدر ورسٹائل سکالر  اور مارکسی دانشور تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں اور انہین پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کام کرنے کا سے لے کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی ٹیم کا اہم کارکن رہنے کے اعزاز حاصل رہے۔ 

سریے اور سیمنٹ کی تازہ ترین قیمتیں سامنے آگئیں

وہ بی بی کے شہید ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو سنبھالنے والے ستونوں میں سے مرکزی ستون تھے۔

بی بی کو کھونے کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے آگے بڑھنے کے لئے سفر آغاز کیا تو کامریڈ تاج حیدر آصف علی زرداری کی تیم کا اہم ترین کارکن تھے۔ انہوں نے  2010 سے کئی سال تک پاکستان پیپلز پارٹی کے کلیدی انتظامی عہدہ  جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

یتیم ،بچوں کو ایس او ایس ویلجز میں چھت، معیاری تعلیم فراہم کرنا قابل تحسین : مریم نواز

سائنسدان تاج حیدر کا پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں کردار

تاج حیدر پیشے کے لحاظ سے اریاضی دان اور سائنسدان تھے۔ تاج حیدر نے 1970 کی دہائی میں خفیہ ایٹم بم منصوبوں کے ابتدائی سالوں میں ایک اہم قیادت فراہم کی۔ وہ 1979 سے 1985 تک پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے لیے سیاسی ڈرامے لکھنے کے لیے بھی مشہور ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ  کامریڈ تاج حیدر نے زندگی مین جو بھی کام کئے بے مثال پرفیکشن کے ساتھ کئے۔

ہال روڈ؛ موبائل اسیسریز کا کاؤنٹر لگانے پر گولیاں چل گئیں

تاج حیدر کراچی میں مقیم تھے، وہ کچھ روز سے  ایک مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے ۔

وفات کے وقت سینیٹر تاج حیدر پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن تھے۔

تاج حیدر8 مارچ 1942 کو  راجستھان  کے علاقہ کوٹہ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پروفیسر کرار حسین اس وقت میرٹھ کالج میں انگریزی ادب کے  پروفیسر تھے۔ 1948 میں  تاج حیدر کے والد  پاکستان ہجرت کر ٓئے تھے۔ 

گھوٹکی: دوست نے دوست کا سر تن سے جدا کر دیا، قاتل گرفتار

 تاج حیدر نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول،رنچھور لائنز، کراچی سے حاصل کی ۔ والد کی سرکاری ملازمت اور مختلف شہروں میں تبادلے کے باعث تاج حیدر نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ فیض ہائی اسکول، کوٹ ڈی جی سے پاس کیا۔

تاج حیدر نے  انٹر میڈیٹ خیر پور کالج، سندھ سے کیا۔ 1959 میں بی ایس سی میں داخلہ لیا اور کراچی یونیورسٹی سے 1962 میں بی ایس سی آنرز کیا اور اسی یونیورسٹی سے ریاضی کے مضمون میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔انھوں نے 1980 میں برآمدات میں سرٹیفکیٹ کورس بھی مکمل کیا ۔

نقل مافیا سرگرم،مختلف شہروں میں پرچے سوشل میڈیا پر آؤٹ

تاج  حیدر نے ٹی وی اینکر پروفیسر ناہید وصی سے شادی کی۔
پی پی پی کے سابق سینیٹر تاج حیدر نے نجی ٹی وی اینکر پروفیسر ناہید وصی سے شادی کر لی جو ایک نجی چینل میں کام کرتی ہیں۔

تاج حیدر 1985 میں پہلی مرتبہ سینیٹر بنے

سینیٹر تاج حیدر  جولائی 1995 میں سابق سینیٹر  کمال اظفر کے  گورنر سندھ  بن جانے پر  ان کی جگہ پہلی مرتبہ سینیٹ آف پاکستان کے لیے منتخب ہوئے۔ سینیٹر کے طور پر ان کی مدت 2000 میں ختم ہونے  ہوئی۔ وہ کئی مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے اور سینیٹر ان کے نام لا لازمی حصہ بنا رہا۔

وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے صنعت و پیداوار اور پانی و بجلی اور تعلیم اور سائنسی و تکنیکی تحقیق اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی فنکشنل کمیٹی کے رکن رہے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر سابق سینیٹر تاج حیدر نے

پڑھیں:

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور پارٹی کی تنظیمی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہونے والے امیرالعظیم کو جمعرات کے روز لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

ان کی نماز جنازہ منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پڑھائی، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت، کارکنوں، مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کی جماعت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بااصول، مدبر اور مخلص رہنما قرار دیا۔

طلبہ سیاست سے قومی قیادت تک کا سفر

3 اکتوبر 1958 کو لاہور کے علاقے اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم کا خاندان 1947 میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے سنہ 1975 میں زمانۂ طالب علمی کے دوران سیاست اور جماعت اسلامی سے وابستگی اختیار کی جبکہ سنہ 1977 میں باقاعدہ جماعت اسلامی کے رکن بنے۔

مزید پڑھیے: خصوصی دعوت پر حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم سے ملاقات

ان کا سیاسی سفر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے شروع ہوا جہاں وہ پہلے لاہور کے ناظم منتخب ہوئے اور بعد میں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے منصب تک پہنچے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے اور سنہ 1980 کی دہائی میں طلبہ حقوق اور نمائندگی کی مختلف تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔

جیل میں بھی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے

سنہ1983  میں وہ جماعت اسلامی پنجاب کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ فوجی دور میں سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

لاہور-امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم رحمۃ اللہ علیہ کے شرکائے اجتماع جنازہ سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ امیرالعظیم نے تمام زندگی اقامت دین کی جدوجہد کی ، وہ بہترین اخلاق کے مالک اور انسانوں کے ہمدرد تھے، وہ… pic.twitter.com/wjshlf58z7

— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) July 23, 2026

جیل کے دوران بھی انہوں نے جماعتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور 2 مرتبہ جماعت اسلامی کی جیل شاخ کے امیر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1988 میں رہائی کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

جماعت اسلامی میں اہم مناصب

امیرالعظیم نے مختلف ادوار میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر، مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات، لاہور کے سیکریٹری جنرل اور بعد ازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اپریل 2019 میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا جہاں وہ اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

تنظیمی سیاست کے معمار

اگرچہ امیرالعظیم نے انتخابی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے تنظیمی میدان کو ترجیح دی تاہم انہیں جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے پارٹی میں ادارہ جاتی نظم، نظریاتی تربیت اور تنظیمی نظم و ضبط کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کئی نسلوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی تربیت کی۔

فکری اور صحافتی خدمات

تنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امیرالعظیم جماعت اسلامی کے فکری اور ابلاغی شعبوں سے بھی وابستہ رہے۔ وہ جماعت کے جریدے چشم نو کے مدیر رہے جبکہ فیوچر وژن کمیونیکیشنز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا اظہار افسوس

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بااصول، صاحب بصیرت اور مخلص رہنما تھے جنہوں نے طویل علالت کے باوجود جماعت کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

مزید پڑھیں: طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی سےملاقات، مثبت سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر زور

جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں امیرالعظیم کو سادگی، دیانت داری، فکری گہرائی اور کارکنوں سے قریبی تعلق رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات جماعت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیرالعظیم انتقال امیرالعظیم کی تدفین جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے