اسلام آباد کی سڑکوں پر خطرناک ڈرائیونگ کرنے والا اعلیٰ شخصیت کا بیٹا تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہے، متاثرہ شہری کی درخواست پر اب تک مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا۔

ایف ایٹ کی حدود میں کم عمر ڈرائیور نے سڑکوں پر سرعام خطرناک ڈرائیونگ کی۔

عینی شاہدین کے مطابق مذکورہ گاڑی وزیراعلیٰ کے پی کے مشیر زاہد چن زیب کا کم عمر بیٹا چلاتا ہے، زاہد چن زیب کے کم عمر بیٹے نے چند روز قبل خطرناک ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کیا تھا۔

وفاقی پولیس سیف سٹی کیمروں کے باوجود تاحال ملزم کو گرفتار نا کر سکی۔

مذکورہ ڈرائیور حادثے کے بعد موقع سے فرار ہوگیا تھا تاہم متاثرہ شہری کی ون فائیو پر کال پر ایکشن لیتے ہوئے مذکورہ ڈرائیور اور گاڑی کو ایف سکس میں پکڑ لیا تھا، پکڑے جانے پر گاڑی سے دو کم عمر لڑکے نکلے جن کے پاس لائسنس بھی نہیں تھا۔

کم عمر ڈرائیور کا والد پی ٹی آئی کا صوبائی وزیر زاہد چن زیب ہے۔ صوبائی وزیر چن زیب حادثے کے بعد موقع پر آیا اور متاثرہ شہری کو دھمکیاں دیتا رہا۔ زاہد چن زیب نے اپنے بیٹے کو پولیس کی موجودگی میں موقع سے فرار کروانے کی کوشش کی۔

زاہد چن زیب نے متاثرہ شہری کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے بیٹے کو لے جا رہا ہوں، ڈرائیور کے طور پر اپنے ملازم کو پیش کر دوں گا، کرتے رہنا عدالتوں میں ثابت۔‘‘

موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے بیٹے کو لے جانے کی کوشش ناکام بنائی جس کے بعد زاہد چن زیب نے بالآخر متاثرہ شہری کا نقصان پورا کرنے کی یقین دہانی کروائی اور پانچ لاکھ موقع پر دے کر چلا گیا تاہم بقیہ رقم کے مطالبے پر شہری کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

متاثرہ شہری تھانے میں درخواستیں دیتا رہا لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ متاثرہ شہری اپنی فریاد لے کر ڈی آئی جی آپریشن کے پاس چلا گیا، ڈی آئی جی آپریشن کو درخواست دینے کے باوجود تاحال پولیس نے وزیر کے  کم عمر بیٹے کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔

تھانوں میں درخواستیں زیر التواء ہونے کے باوجود نوجوان آج پھر گاڑی لے کر سڑکوں پر نکل آیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خطرناک ڈرائیونگ متاثرہ شہری زاہد چن زیب سڑکوں پر

پڑھیں:

اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔

اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟

متعلقہ مضامین

  • کراچی کی سڑکوں پر دلچسپ تبصرہ، شرمیلا فاروقی اور وسیم بادامی کے درمیان ہلکا پھلکا مکالمہ
  • ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
  • گھوٹکی اور گردونواح میں بجلی کا بریک ڈاؤن، شہری مشکلات کا شکار
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی