کراچی، میٹرک امتحان دینا طالبات کو مہنگا پڑگیا، موبائل فونز، قیمتی سامان اور رقم چوری
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
متاثرہ طالبات کے مطابق اسکول انتظامیہ نے طالبات کی مدد کرنے سے انکار کر دیا، جس پر متاثرہ طالبات اور والدین نے اسکول کے باہر احتجاج کیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں میٹرک کا امتحان دینا طالبات کو مہنگا پڑگیا، لیاقت آباد میں واقع کے ایم سی اسکول سے تین طالبات کے بیگز چوری ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد تھانے کے علاقے لیاقت آباد بی ون ایریا میں کے ایم سی اسکول سے تین طالبات کے بیگز چوری ہو گئے، میٹرک کی طالبات امتحان دینے صبح پہنچیں، بیگ جمع کرائے اور امتحان دینے بیٹھ گئیں۔ پیپر ختم ہونے کے بعد جب دیکھا تو ان کے بیگ غائب تھے، بیگز میں موبائل فونز، قیمتی سامان اور رقم بھی موجود تھی۔ متاثرہ طالبات کے مطابق اسکول انتظامیہ نے طالبات کی مدد کرنے سے انکار کر دیا، جس پر متاثرہ طالبات اور والدین نے اسکول کے باہر احتجاج کیا۔ متاثرہ طالبات اور والدین نے اعلیٰ حکام سے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے چوری شدہ بیگز برآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متاثرہ طالبات طالبات کے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔