ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی،پاکستان کے لئے امریکی منڈی میں نئے مواقع کھل گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
واشنگٹن،اسلام آباد(راشدعباسی)موقرعالمی جریدے’’دی ڈپلومیٹ‘‘نے دعویٰ کیاہے کہ صدرٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے پاکستان کےلئےامریکہ کے ساتھ تجارت کے نئے مواقع کھول دیئے ہیں، دیکھنایہ ہے کہ آیا پاکستان اپنے علاقائی مسابقت کاروں کے مقابلے میں کم ٹیرف کی سہولت سے فائدہ اٹھا تاہے یا نہیں۔ دی ڈپلومیٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان سے درآمدات پر 29فیصدجوابی ٹیرف عائد کیاہے، یہ فیصلہ بظاہر پاکستان کے ساتھ دواعشاریہ نوارب ڈالرکے تجارتی خسارے کوختم کرنے کے لئے کیاگیاہے،پاکستان کے لئے امریکہ کاشمار ان عالمی منڈیوں میں ہوتا ہے جہاں اس کی تجارت نمایاں طور پر سرپلس ہے،حالیہ برسوں میں امریکی منڈی کے لئے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے،رپورٹ کے مطابق نئے عائد کردہ ٹیرف کے باوجودبعض وجوہات کی بناء پر امریکہ کے لئے پاکستان کی روایتی برآمدات میں اضافے کا رحجان برقراررہنے کاامکان ہے، اس میں سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان پر عائد کردہ ٹیرف کی شرح بنگلہ دیش،ویت نام اور چین جیسے براہ راست مسابقت کاروں کے مقابلے میں کم ہے ،رپورٹ کے مطابق بھارت اورترکیہ جیسے دیگرممالک پر ٹیرف کی شرح پاکستان سے کم ہوسکتی ہے لیکن پاکستان اپنے براہ راست مسابقت کاروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم قیمت کے باعث فائدہ اٹھاسکتاہے،رپورٹ میں اس امرکی نشاندہی بھی کی گئی کہ اگرچہ پاکستان نے اپنی مصنوعات کی کم قیمت کے باعث حالیہ برسوں میں فائدہ ضرور اٹھایا ہے تاہم وہ اس موقع کو امریکہ میں بڑے مارکیٹ شیئر میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے، کم قیمت کا یہ موقع اس وقت میں پاکستان کے لیے ایک ڈھال کا کام دے سکتا ہے اور بھارت کو حاصل تین فیصد فائدے کا توازن قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، رپورٹ کے مطابق دوسری وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور ویتنام — جو کہ امریکی منڈی کے لیےملبوسات فراہم کرنے والے دوبڑے ممالک ہیں — انہیںان پربالترتیب 39 فیصد اور 46 فیصد کا بھاری جوابی ٹیرف لگایاگیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ابھی بھی امریکی منڈی میں زیادہ حصّہ حاصل کر سکتا ہے اور وہ 29 فیصد ٹیرف کے باوجوداپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے،تیسری وجہ یہ ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ کے باعث ممکنہ کساد بازاری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال میں پاکستان ایک غیر متوقع فائدہ اٹھانے والا ملک بن سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے چین پر سخت ٹیرف عائد کرنے سے امریکی منڈی میں چینی ملبوسات اور کپڑوں کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی، یہ بات قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکی منڈی میں چینی ملبوسات پہلے ہی پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہیں،حالیہ ٹیرف میں اضافے اور مستقبل میں ممکنہ مزید اضافے کے بعد پاکستانی مصنوعات اپنی کم قیمتوں کی وجہ سے امریکیوں کے لئے زیادہ پرکشش بن سکتی ہیں، اس سے امریکی خریداروں کی جانب سے پاکستانی اشیاء کے آرڈرز میں اضافہ، مناسب قیمت والی پاکستانی مصنوعات کی مانگ کوتقویت ملنے اور امریکی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ بڑھنے کا امکان ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کاروباری طبقے کابھی کہناہے کہ امریکی ٹیرف کی موجودہ صورتِ حال نے پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کا ایک غیر متوقع موقع فراہم کیا ہے،رپورٹ میں کہاگیاکہ پاکستان موجودہ صورتحال کے تناظرمیںجامع حکمتِ عملی اپنانے اور ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پُرعزم نظر آتا ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی ٹیرف کے حوالے سے کہاہے کہ ہم اس صورتحال کو ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ا یسا لگتا ہے کہ پاکستان اور امریکا نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت تجارتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور اس ضمن میں ممکنہ طور پر اہم معدنیات ایک کلیدی شعبے کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں،پاکستانی وزیرخارجہ کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک بات چیت میں امریکی اہم معدنیات سے متعلق ممکنہ تعاون کی بات کی اور امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں کاروباری مواقع کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ایک بڑی تشویش یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بہت زیادہ انحصار ٹیکسٹائل کی برآمدات پر ہے، جو کہ امریکہ کو برآمدات کا 77 فیصد بنتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محدود مصنوعات کی فراہمی امریکی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو سکتی ہے،اس لئے پاکستانی حکومت کو چمڑے، سرجیکل آلات، سیمنٹ اور اسٹیل مصنوعات برآمد کرنے والے دیگر شعبوں کو بھی فروغ دینا ہوگا۔مزید برآں پاکستانی کمپنیوں کے لیے کاروبار کی لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی ضروری ہے، ٹرمپ دور کے محصولات کے دوران پاکستانی حکومت نے کمرشل صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اقدام کاروباری برادری کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا ہے، پاکستانی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بہتری اور نئی مراعات کے ذریعے برآمدکنندگان کی حوصلہ افزائی کریں، آنے والے ہفتوں میں واضح ہوگا کہ آیا پاکستان اپنے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں معمولی ٹیرف برتری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے یا نہیں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز