تیل کے عالمی نرخوں میں کمی، پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات10 روپے سستی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
لندن ، اسلام آباد(اوصاف نیوز)پاکستان میں پٹرولیم قیمتوں میں کبھی اضافہ تو کبھی کمی ، نشیب وفراز کا سلسلہ جاری ہے تاہم عالمی نرخوں میں کمی کی وجہ سے 30 اپریل کو ختم ہونے والے اگلے 15 دنوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 10 روپے فی لیٹر کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ ریلیف ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی سے مشروط ہے، ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہ دینے پر بھی غور کیا گیا، جس سے طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے، دریں اثنا، ریفائنریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی عائد کرے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یکم جولائی سے نافذ العمل ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی لچک اور پائیداری سہولت کے حصے کے طور پر تقریباً 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے کا حلف نامہ بھی دیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس کی شرحوں کی بنیاد پر پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریباً 10 روپے کمی کا تخمینہ لگایا گیا، جو 15 اپریل کو حتمی حساب کتاب پر منحصر ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں 9 روپے فی لیٹر کمی کی جائے گی۔
پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا تخمینہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پیٹرول کی بین الاقوامی قیمت میں تقریباً 6 ڈالر فی بیرل اور ایچ ایس ڈی میں تقریباً 5 ڈالر فی بیرل کی کمی سے سامنے آیا ہے۔
ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت اس وقت 254 روپے 63 پیسے فی لیٹر ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 258 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے۔حکومت اس وقت پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر تقریباً 86 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے
تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) صفر ہے، لیکن حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ہائی آکٹین مصنوعات پر 70 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کر رہی ہے، جو عام طور پر عوام کو متاثر کرتی ہے۔
حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر کسٹم ڈیوٹی کی مد میں تقریباً 16 روپے فی لیٹر وصول کرتی ہے، چاہے ان کی مقامی پیداوار یا درآمدات کچھ بھی ہوں، اس کے علاوہ تقریباً 17 روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اور سیل مارجن آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کو جا رہا ہے۔
جارح مزاج بیٹر کولن منرو نے پی ایس ایل میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: روپے فی لیٹر قیمتوں میں پیٹرول کی کی قیمت
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر