بھارت, وقف ترمیمی بل کے خلاف جھارکھنڈ میں احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر متھلیش ٹھاکر نے کہا کہ مسلمانوں کو وقف املاک پر آئینی حقوق حاصل ہیں۔ اس بل کے ذریعے حکومت آئین کے اصولوں کو تباہ کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی حکومت کی طرف سے منظور کئے گئے وقف ترمیمی بل کے خلاف آج ریاست جھارکھنڈ میں اقلیتی حقوق فورم کی قیادت میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ضلع گھڑوا میں مسلم کمیونٹی کے ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پرامن جلوس نکال کر بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس دوران سابق وزیر متھلیش ٹھاکر بھی مظاہرین کے ساتھ موجود تھے۔مظاہرین نے ماجھیاں موڑ سے ٹائون ہال گرانڈ تک مارچ کیا جہاں ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ بھارتی حکومت اقلیتوں کے مذہبی اور تاریخی حقوق سلب کر رہی ہے۔ سابق وزیر متھلیش ٹھاکر نے کہا کہ مسلمانوں کو وقف املاک پر آئینی حقوق حاصل ہیں۔ اس بل کے ذریعے حکومت آئین کے اصولوں کو تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بل واپس نہ لیا گیا تو تحریک ملک گیر شکل اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف وقف املاک کا معاملہ نہیں بلکہ بھارتی حکومت آہستہ آہستہ ہر مذہب کی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی حکومت کر رہی ہے نے کہا کہ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک