نوشہرہ،ایکسائز موبائل سکواڈ پر فائرنگ سے 2کانسٹیبل اور ڈرائیور شہید، ایک سب انسپکٹر شدید زخمی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 April, 2025 سب نیوز

نوشہرہ(سب نیوز)نوشہرہ میں ایکسائز موبائل سکواڈ پر فائرنگ کر کے 2 کانسٹیبل اور ڈرائیور کو شہید کر دیا گیا۔ایکسائز پولیس کے مطابق جی ٹی روڈ پر تارو پبی کی حدود میں نامعلوم افراد نے ایکسائز موبائل سکواڈ پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو کانسٹیبل اور ڈرائیور زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ ایک سب انسپکٹر شدید زخمی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں کانسٹیبل افتخار اور مجاہد شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر فاروق کو 5 گولیاں لگیں جسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ایکسائز اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ فائرنگ کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، فائرنگ کے نتیجے میں شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایکسائز فورس جانوں کا نذرانہ دے کر صوبے میں منشیات کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی اور پولیس کو فائرنگ میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لئے کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔انہوں کا واقعے میں دو ایکسائز پولیس اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس اور شہدا کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، صوبائی حکومت شہدا کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی، شہدا کے اہل خانہ کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی، فائرنگ میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے، شہدا کے لواحقین کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔ دوسری جانب محکمہ ایکسائز انٹیلی جنس ٹیم کے شہید دو اہلکاروں سمیت ڈرائیور کی نماز جنازہ پولیس لائن پشاور میں ادا کر دی گئی۔نماز جنازہ میں آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، سی سی پی او، ایس ایس پی آپریشنز سمیت ایکسائز حکام نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور ڈرائیور سب انسپکٹر

پڑھیں:

دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے زیراہتمام ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران بھارتی پولیس اور ‘ریپڈ ایکشن فورس’ کے تشدد، لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال سے متعدد مظاہرین شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس اور بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹس کے مطابق، 20 جولائی کو نوجوانوں کے اس احتجاج کے دوران فورسز کے مبینہ پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والے کم از کم 4 افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بیشتر طلبہ ہیں۔

طالب علم کی بینائی ضائع ہونے کا خدشہ

رپورٹس کے مطابق دہلی کے علاقے نجف گڑھ کے رہائشی اور ‘دہلی یونیورسٹی اسکول آف اوپن لرننگ’ کے 19 سالہ طالب علم سہیل لوچھب کی دائیں آنکھ میں پیلٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ 21 جولائی کو ‘آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (AIIMS) میں ان کا آپریشن کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ سہیل کی دائیں آنکھ کی بینائی بحال ہونے کے امکانات صرف ایک فیصد ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق سہیل مستقبل میں پولیس افسر بننے کا عزم رکھتے تھے۔

حساس مقام پر پیلٹ پھنسنے سے نوجوان کی حالت تشویشناک

ایک اور افسوسناک واقعے میں 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری شدید زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر ‘لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج’ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جراحی کے بعد ان کے چہرے سے متعدد پیلٹس نکال لیے۔ تاہم، گردن کی شریان کے بالکل قریب انتہائی حساس مقام پر پھنسے ایک پیلٹ کو تاحال نہیں نکالا جا سکا، جس سے ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

حکام کی تردید اور تحقیقات کا آغاز

مظاہرین اور متاثرین نے پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال کا الزام سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے خصوصی یونٹ ’ریپڈ ایکشن فورس‘پر عائد کیا ہے، جسے مظاہرے سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔

دوسری جانب، سیکیورٹی حکام نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم عوام اور میڈیا کے شدید ردِعمل کے بعد سی آر پی ایف انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز ماضی میں پیلٹ گن کا استعمال زیادہ تر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں اور بچوں کی بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ نئی دہلی کے مرکزی شہر میں اس کا استعمال ایک غیر معمولی اور شدید متنازع اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی