کراچی سمیت سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
محکمہ صحت سندھ کے مطابق یکم جنوری سے 11 اپریل تک سندھ میں ملیریا کے 16 ہزار 733 کیس رپورٹ ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد سمیت سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق یکم جنوری سے 11 اپریل تک سندھ میں ملیریا کے 16 ہزار 733 کیس رپورٹ ہوئے۔ جنوری سے 11 اپریل تک کراچی سے ملیریا کے 186 کیس رپورٹ ہوئے، سب سے زیادہ 72 کیسز ضلع جنوبی سے سامنے آئے۔ ضلع ملیر سے 62، ضلع غربی سے 29، ضلع کورنگی سے 16، ضلع شرقی سے 5 اور ضلع وسطی سے 2 کیس سامنے آئے۔ ترجمان کے مطابق جنوری سے اپریل تک ضلع کیماڑی سے ملیریا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ حیدرآباد ڈویژن سے ملیریا کے 6 ہزار 596 کیس رپورٹ ہوئے۔ سکھر ڈویژن سے ملیریا کے 1 ہزار 549 کیس رپورٹ ہوئے، لاڑکانہ ڈویژن سے ملیریا کے 5 ہزار 136 کیس سامنے آئے۔ اس کے علاوہ میرپورخاص ڈویژن سے 1 ہزار 282 اور شہید بینظیر آباد ڈویژن سے 1 ہزار 984 کیس رپورٹ ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیس رپورٹ ہوئے میں ملیریا کے سے ملیریا کے اپریل تک ڈویژن سے
پڑھیں:
کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
اسلام آباد:مون سون سسٹم کے تحت کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کر دی گئی جس کے سبب اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا جس کے مطابق جنوبی اور وسطی پاکستان میں پیر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے، سندھ، پنجاب اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں 24 سے 28 جولائی تک بارشیں متوقع ہیں۔ اس دوران کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپور خاص، عمر کوٹ، تھرپارکر، شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، خیرپور اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
پنجاب میں 24 سے 26 جولائی کے دوران لاہور، گجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آبا، بہاولپور، رحیم یار خان اور دیگر وسطی علاقوں میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شدید بارشوں سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ آندھی، تیز ہواوٴں اور آسمانی بجلی سے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
محکمہ موسیات نے ہدایت کی کہ سیاح غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کسان موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی سرگرمیاں ترتیب دیں، مویشی پال حضرات حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں، تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی۔