دورے کے دوران امریکی وفد نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں جنہیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے دورے پر آئے امریکی اراکینِ کانگریس نے اپنے حالیہ دورے کو کامیاب، مثبت اور مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دورے کے دوران امریکی وفد نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں جنہیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔

رکنِ کانگریس جیک وارن برگ مین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی اہمیت مسلمہ ہے، ان کی اہمیت کو مستقبل میں کسی صورت کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری شراکت داری نہ صرف ان کے لیے بلکہ دنیا کے دیگر ترقی پذیر خطوں کے لیے بھی سودمند ثابت ہو گی۔ جیک برگ مین نے بتایا کہ ان کی ٹیم پاکستان میں مخصوص شعبہ جات میں کام کر رہی ہے، خصوصاً معدنیات کے شعبے میں شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ایسی مضبوط صنعتوں کی بنیاد رکھیں گے جو پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کے جدید طریقے اور نئی مصنوعات پیداوار کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ برگ مین نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اس بنیاد پر استوار ہیں کہ دونوں ممالک آزادی اور خودمختاری پر یقین رکھتے ہیں، اور یہی اشتراک دونوں کو قریب لاتا ہے۔ کانگریس مین تھامس رچرڈ سوازی نے اپنی گفتگو کا آغاز ”السلام علیکم“ اور ”شکریہ“ کے الفاظ سے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دورہ شاندار رہا، ہم پاکستانیوں کی گرمجوش میزبانی کے شکر گزار ہیں۔ تھامس سوازی نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن ہمارے لیے ایک سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہوں نے ہماری سرزمین پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں میں بے شمار خوبیاں ہیں، یہ لوگ محنتی، تعلیم یافتہ اور خاندانی اقدار کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک معاشی سلامتی کے لیے مل کر کام کریں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔ کانگریس مین جوناتھن لوتھر جیکسن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پاکستان میں ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ تاریخ اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔ جوناتھن جیکسن نے پاکستان کے مذہبی مقامات کا دورہ کرنے اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کو یادگار قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان دونوں ممالک نے پاکستان کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا