پاک امریکہ اقتصادی تعلقات کے فروغ کیلئےپاکستانی امریکن چیمبر آف کامرس قائم
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
شکاگو: امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے پاکستانی امریکن چیمبر آف کامرس قائم کرلیاہے،جس کا مقصدپاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو فروغ دینااور تاجروں کے مسائل اجاگرکرکے انہیں فوری طور پرحل کرانے کی کوششیں کرناہے۔ اس سلسلے میں شکاگومیں ایک تقریب منعقدہوئی جس میں معروف بزنس مین نوید انورچوہدری کو پاکستانی امریکن چیمبرآف کامرس کا صدر اور طارق بٹ کوچیئرمین بنایاگیااوران پر اعتماد کا اظہار کیاگیا۔تقریب میں پاکستان کے قونصل جنرل طارق کریم،امریکہ کی اہم شخصیات انا والنسیا، میلیسا ایرون، فرٹز کیگی، ڈینی ڈیوس کے علاوہ معروف پاکستانیوں راناجاوید،رانازاہد،رضوان خان،چوہدری منیر،ڈاکٹرمحمدانور،آصف ملک اور ڈاکٹرآصف سمیت بڑی تعدادمیں پاکستانیوں نے شرکت ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نویدانورچوہدری نے کہاکہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم چیمبرآف کامرس کے قیام میں کامیاب ہوئے ہیں اور اس کا سہراطارق بٹ، قونصل جنرل، کمیونٹی لیڈرز اورتاجروں کو جاتاہے۔انہوں نے کہاکہ یہاں بیٹھے ہوئے تمام افراد کاتعلق مختلف صنعتوں سے ہے لیکن اس سے پہلے ہمارے پاس کوئی باضابطہ فورم موجود نہیں تھاجہاں ہم اپنی تجاویزدے سکیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں یہ چیمبراپنافعال کرداراداکرے گا۔ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھایاجاسکتاہے اور اس کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس فورم کے ذریعے امپورٹ ،ایکسپورٹ میں جو بھی ایشوز آتے ہیں انہیں اجاگرکرنے میں مدد ملے گی اور دونوں ممالک کی حکومتوں کے ساتھ رابطوں کو فروغ دیاجائے گا۔اس موقع پر شرکاء نے چیمبر آف کامرس کے قیام کاخیرمقدم کرتے ہوئے اس توقع کااظہارکیاکہ نہ صرف اقتصادی شعبے میں دونوں ممالک میں تعاون بڑھے گابلکہ دونوں ممالک کے تاجروں کو جن مسائل کاسامناکرناپڑتاہے انہیں حل کرانے میں آسانی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دونوں ممالک ا ف کامرس
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔