صدر مملکت آصف علی زرداری سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت، معیشت و ثقافت پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جولائی2025ء) صدر مملکت آصف علی زرداری سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ایوان صدر میں ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت، معیشت و ثقافت پر تبادلہ خیال کیا ۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے ۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت، معیشت و ثقافت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
(جاری ہے)
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ عقیدے اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینا دونوں ممالک کے لیے مفید ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کار دوست ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب عالمی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ مشکل وقتوں میں سعودی عرب کی معاونت پر شکرگزار ہیں۔ صدر مملکت نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک تمنائوں کا پیغام بھی دیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آصف علی زرداری صدر مملکت نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔