صدر مملکت آصف علی زرداری سے چین کے سفیر کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ نے ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، معیشت، ثقافت اور علاقائی روابط کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ پاکستانی عوام اپنے آہنی بھائی چین کی مستقل حمایت پر شکر گزار ہیں۔چین پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ چینی سفیر جیانگ زائی دونگ نے صدر مملکت کی آنے والی سالگرہ کے موقع پر صدر شی جن پنگ کی جانب سے دلی نیک خواہشات کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صدر مملکت
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔