چین نے ائیرلائنز کمپنیوں کو امریکی بوئنگ طیارے نہ خریدنے کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
چین اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ بڑھنے لگی، چین نے اپنی ائیرلائن کمپنیوں کو بوئنگ طیارے نہ خریدنے کا حکم دے دیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین نے ائیرلائن کمپنیوں کو امریکی کمپنیوں سے آلات اور اسپیئر پارٹس نہ خریدنے کا حکم دے دیا۔
چین نے اپنی ائیرلائن کمپنیوں کو امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے طیارے بھی نہ خریدنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی اشیا پر عائد 145 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد کیا گیا ۔
ادھر ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہناہے کہ صدرٹرمپ چین سے ڈیل کرنے کیلئے تیار ہیں، چین ڈیل کیلئے تیارہے یا نہیں بال چین کی کورٹ میں ہے۔ یہ بھی پڑھیں:پریتی زنٹا کی ٹیم پنجاب کنگز نے آئی پی ایل میں نئی تاریخ رقم کر دی
دوسری جانب امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا چین کو تنہا کرنے کے لیے ٹیرف مذاکرات کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیرف مذاکرات کو امریکا کے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ وہ چین کے ساتھ تجارت کو محدود کریں۔
رپورٹ کے مطابق 70 سے زائد ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ چین کو اپنے علاقوں کے راستے سامان کی ترسیل کی اجازت نہ دیں۔ان ممالک سے کہا جائے گا کہ امریکی ٹیرف سے بچنا ہے تو اپنے علاقوں میں چینی فرمز کی موجودگی کو ختم کریں۔
ضمنی الیکشن کی تیاریاں، سندھ حکومت کا 17 اپریل کو عام تعطیل کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نہ خریدنے کا حکم کمپنیوں کو چین نے
پڑھیں:
امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر پابندی عائد کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اداروں کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حساس ٹیکنالوجی کی غیر مجاز منتقلی کے خطرات سے متعلق تشویش کا باعث ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق فہرست میں شامل ان اداروں کو امریکی قوانین کے تحت دفاعی تحقیق اور حساس ٹیکنالوجی کے تبادلوں کے تناظر میں خصوصی پابندیوں اور نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد امریکی دفاعی ٹیکنالوجی اور حساس تحقیق کے غیر مجاز یا غیر مطلوبہ منتقلی کو روکنا بتایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس کا عملی دائرۂ کار امریکی قوانین کے تحت دفاعی تعاون، فنڈنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مخصوص پابندیوں سے متعلق ہے۔