سپریم کورٹ نے کہا کہ جہاں تک بورڈز اور کونسلز کی تشکیل کا تعلق ہے، سابق ممبران کی تقرری کی جا سکتی ہے، مذہب کی پرواہ کئے بغیر انکی تقرری کی جا سکتی ہے، لیکن باقی ممبران مسلمان ہونے چاہئیں۔ اسلام ٹائمز۔ وقف معاملے پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس معاملے پر کل بھی سنوائی جاری رہے گی۔ عرضی گزاروں کی طرف سے سینیئر ایڈووکیٹ کپل سبل، ابھیشیک منو سنگھوی جیسے فاضل وکلاء نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل رکھے۔ یہاں یہ جاننا کافی اہم ہے کہ مسلم فریق کو سننے کے بعد سپریم کورٹ نے کیا کہا۔ عرضی گزاروں کے وکلاء کو سننے کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا نے سنجیو کھنہ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیئے کہ جب ہندو اوقاف کی بات آتی ہے، تو یہ عام طور پر ہندوؤں کے انڈومنٹ ہوتے ہیں۔ سی جے آئی نے مہتا سے کہا کہ وقف بائی یوزر کو صفر یا کالعدم قرار دیا جاتا ہے، اگر وقف بائی یوزر پہلے سے ہی قائم ہے، تو کیا اسے غیر قانونی قرار دیا جائے گا یا یہ برقرار رہے گا۔ چیف جسٹس کھنہ نے کہا کہ جامع مسجد سمیت تمام قدیم یادگاریں محفوظ رہیں گی۔

چیف جسٹس نے مہتا سے کہا کہ اگر آپ وقف بائی یوزر جائیدادوں کو ڈی نوٹیفائی کرنے جا رہے ہیں، تو یہ ایک مسئلہ ہوگا۔ سی جے آئی نے کہا کہ آپ وقف بائی یوزر کا رجسٹریشن کیسے کریں گے، کیونکہ دستاویزات کی کمی ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وقف بائی یوزر کو ختم کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے، تاہم، اس کا کچھ غلط استعمال بھی ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب ہم یہاں فیصلے لینے بیٹھتے ہیں، تو ہم اپنے مذہب کو ایک طرف رکھتے ہیں، ہم سیکولر ہیں، ہم ایک ایسے بورڈ کی بات کر رہے ہیں جو مذہبی امور کا انتظام کر رہا ہے سپریم کورٹ نے بی جے پی کی حکومت سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمانوں کو ہندو مذہبی ٹرسٹ کا حصہ بننے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے۔ کیا کسی غیر ہندو کو ہندو اوقاف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ کیا غیر ہندو ہندو مذہبی بورڈ کا حصہ ہوں گے۔

دریں اثنا سینیئر وکیل حذیفہ احمدی نے عرضی گزاروں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ وقف بائی یوزر اسلام کی ایک مستحکم روایت ہے اور اسے چھینا نہیں جا سکتا۔ سی جے آئی نے کہا کہ عدالت کے سامنے کئی آپشن ہیں۔ آئیے اس چیلنج پر فیصلہ کریں، ہم درخواستوں کو مشترکہ طور پر ہائی کورٹ میں منتقل کریں یا ان درخواستوں پر خود کوئی فیصلہ کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی بھی جائیداد کو جسے صارف (یوزر) یا عدالت نے وقف قرار دیا ہے اسے ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جہاں تک بورڈز اور کونسلز کی تشکیل کا تعلق ہے، سابق ممبران کی تقرری کی جا سکتی ہے، مذہب کی پرواہ کئے بغیر ان کی تقرری کی جا سکتی ہے، لیکن باقی ممبران مسلمان ہونے چاہئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی تقرری کی جا سکتی ہے سپریم کورٹ نے کہا کہ وقف بائی یوزر چیف جسٹس

پڑھیں:

حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ

سٹی 42: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا

 حکومت کی جانب سے پیٹرول4روپے 40پیسے مہنگا کردیاگیاجبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے 62پیسےا ضافہ کیا گیا ہے۔

 پیٹرول کی نئی قیمت 331روپے 52پیسے ہوگئی،ڈیزل کی نئی قیمت 378روپے 66پیسے مقرر کردی۔ 

واضح رہے  پیٹرولیم  مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پرتعین کیا جارہا ہے ۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش