ایران میں جاں بحق 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور پہنچا دی گئیں،سکیورٹی کے سخت انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
ایران میں جاں بحق 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور پہنچا دی گئیں،سکیورٹی کے سخت انتظامات WhatsAppFacebookTwitter 0 17 April, 2025 سب نیوز
بہاولپور(آئی پی ایس) ایران میں دہشت گردی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے 8 پاکستانیوں کی میتیں خصوصی طیارے کے ذریعے بہاولپور پہنچا دی گئیں۔
ایئرپورٹ پر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیموں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق میتوں کو بہاولپور ایئرپورٹ پر لواحقین کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقوں خانقاہ شریف اور احمدپور شرقیہ روانہ کر دیا گیا۔
کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر سمیت اعلیٰ انتظامی افسران موقع پر موجود رہے اور لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میتوں کی آمد کے بعد ان کے آبائی علاقوں میں فضا سوگوار ہو گئی۔ علی الصبح مرحومین کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں مقامی افراد سمیت سرکاری و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایران میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے 8 پاکستانیوں کو قتل کر دیا تھا، جن کا تعلق بہاولپور ڈویژن سے تھا۔
حکومتِ پاکستان کی کوششوں اور سفارتی رابطوں کے بعد میتوں کو وطن واپس لانے کے لیے خصوصی پرواز کا انتظام کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔