پنجاب میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا خدشہ،سکولوں کیلئے اہم ہدایات جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافے اور متوقع ہیٹ ویو کے پیش نظر محکمہ سکولز ایجوکیشن پنجاب نے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے لیے اہم نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے آئندہ دنوں میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کیا ہے جس کے تناظر میں طلبہ و اساتذہ کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے جامع ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی کی دستیابی کو ہر صورت ممکن بنایا جائے، طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہلکے، ڈھیلے ڈھالے اور گرمی کے لحاظ سے موزوں کپڑے پہن کر آئیں،غیر نصابی اور آؤٹ ڈور سرگرمیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں تاکہ طلبہ دھوپ اور گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔
حکمرانوں کے معیشت کی ترقی کے دعوے کھوکھلے ہیں:جمشید اقبال چیمہ
کلاس رومز میں پنکھوں اورہوا کے نظام کو فعال حالت میں رکھا جائے تاکہ اندرونی ماحول قدرے معتدل رہے،طلبہ کو ممکنہ حد تک کور ایریاز میں رکھا جائے اور دھوپ میں لے جانے سے گریز کیا جائے۔
محکمہ اسکولز ایجوکیشن نے ہدایت کی ہے کہ تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے ان گائیڈ لائنز پر مکمل عمل درآمد کے پابند ہوں گے اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بائیومیٹرک کروانے کی ڈیڈلائن، عازمین حج کیلئے اہم خبر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔