Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:08:33 GMT

روس نے افغان طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹادیا

اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT

روس نے افغان طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹادیا

روس نے افغانستان میں برسراقتدار طالبان پر عائد پابندی معطل کر دی، جنہیں اس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا تھا، اس نئی پیش رفت کے بعد ماسکو کے لیے افغانستان کی قیادت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

نجی اخبار میں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت کوئی بھی ملک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا جو اگست 2021 میں برسر اقتدارآئی تھی کیونکہ امریکا کی زیرقیادت غیرملکی افواج نے 20 سال کی جنگ کے بعد افغانستان سے افراتفری میں انخلا کیا تھا۔

لیکن روس بتدریج اس تحریک کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے، جس کے بارے میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اتحادی ہے۔

سنہ 2003 میں روس نے طالبان کو دہشت گرد تحریک قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا تھا، سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو فوری طور پر پابندی ہٹا دی ہے۔

روس طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت کو دیکھتا ہے کیونکہ اسے افغانستان سے لے کر مشرق وسطیٰ تک متعدد ممالک میں موجود عسکریت پسند گروہوں سے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ لاحق ہے۔

مارچ 2024 میں ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں مسلح افراد نے 145 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ذمہ دار داعش خراسان کی افغان شاخ ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحریک کی وسیع تر بین الاقوامی شناخت کا راستہ اس وقت تک تعطل کا شکار ہے جب تک کہ وہ خواتین کے حقوق کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل نہیں کرتی۔

طالبان نے ہائی اسکول اور یونیورسٹیاں لڑکیوں اور خواتین کے لیے بند کر دی ہیں اور مرد سرپرست کے بغیر ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔

پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔

 ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک