ایم کیو ایم صبح حکومت چھوڑنے کی دھمکی دے کر شام میں پرانی تنخواہ پر کام پر راضی ہوتی ہے، سریندر ولاسائی
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
ایک بیان میں ترجمان بلاول ہاؤس نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزراء کی کارکردگی سب سے بُری ہے، خالد مقبول اُن سے استعفے مانگیں، خالد مقبول دوسروں کو مشورے دینے کے بجائے اپنی پارٹی کے اندرونی معاملات پر توجہ دیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلاول ہاؤس کے ترجمان سریندر ولاسائی نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے بیان پر ردعمل دیا ہے۔ ترجمان بلاول ہاؤس نے کہا ہے کہ صبح حکومت چھوڑنے کی دھمکی دے کر شام میں پرانی تنخواہ پر کام پر راضی ہوتے ہیں، خالد مقبول بتائیں 3 حکومتوں کا مسلسل حصہ رہنے کے بعد انہوں نے کراچی کے لیے کیا کیا؟ سریندر ولاسائی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزراء کی کارکردگی سب سے بُری ہے، خالد مقبول اُن سے استعفے مانگیں، خالد مقبول دوسروں کو مشورے دینے کے بجائے اپنی پارٹی کے اندرونی معاملات پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کسی صورت متنازع کینال بننے نہیں دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد مقبول نے کہا
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔