مصطفی قتل کیس، ارمغان کے گھر چھاپے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
8 ؍فروری کو پولیس چھاپے کے وقت ارمغان اپنے گھر میں برہنہ حالت میں گھوم رہا تھا
فوٹیج میں ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور ایک اہلکار کو زخمی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے
مصطفی قتل کیس کا معاملے میں تفتیشی پولیس نے ارمغان کے گھر ڈیفنس خیابان مومن میں چھاپے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی فوٹیج میں ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور ایک اہلکار کو زخمی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے ۔مصطفی قتل کیس کا معاملے میں تفتیشی پولیس نے ارمغان کے گھر ڈیفنس خیابان مومن میں چھاپے کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی۔فوٹیج میں ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور ایک اہلکار کو زخمی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے ، ملزم ارمغان اسلحہ چلانے کا ماہر نکلا جس کی پولیس کو توقع نہیں تھی، فوٹیج میں ملزم ارمغان کی فائرنگ کرتے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔8 فروری کو پولیس کے چھاپے کے وقت ملزم ارمغان اپنے گھر میں برہنہ حالت میں گھوم رہا تھا جو فوٹیج میں دیکھا گیا۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ملزم ارمغان کے ساتھ ایک لڑکی بھی موجود ہے ، ملزم پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کرتا رہا، ملزم نے گھر کی بالائی منزل سے اترتے ہوئے سیڑھی کا سہارا لیکر دوبارہ فائرنگ کی جو فوٹیج میں دیکھا گیا۔ارمغان نے ایم فور گن کے آگے ٹارچ بھی جلائی رکھی تھی، ملزم دو مرتبہ پولیس پر فائرنگ کر کے کمرے میں چلا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں پولیس کو ملزم ارمغان کے گھر کے باہر منصوبہ بندی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔پولیس اہلکاروں کو ملزم ارمغان کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے ، پولیس اہلکار گھر کے مختلف حصوں میں داخل ہوتے ہیں، ملزم ارمغان گھر کی بالائی منزل سے پولیس پر فائرنگ کرتا رہا۔پولیس موبائل کے ذریعے بنگلے کا دروازہ ٹکر مار کر کھولا گیا، سیڑھیوں کی جانب جب پولیس افسران و اہلکار پہنچے تو ملزم ارمغان نے فائرنگ شروع کردی۔فائرنگ سے ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور اہلکار زخمی ہوئے ، زخمی پولیس افسر اور اہلکار فرش پر گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے ، اسی وقت ایک لڑکی بھی ارمغان کے کمرے سے نکلتے دیکھی جاسکتی ہے ، ذرائع نے بتایا کہ مزکورہ وڈیو پولیس نے خود شائع کرائی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔