راولپنڈی میں کراؤڈ نے ہمارے خلاف نعرے لگائے: شائے ہوپ
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
ملتان سلطانز کے غیر ملکی کھلاڑی شائے ہوپ کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں کراؤڈ نے ہمارے خلاف نعرے لگائے، راولپنڈی میں کراؤڈ ہمارے حق میں نہیں تھا لیکن ملتان میں اُمید ہے کراؤڈ آئے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محمد رضوان نے ہمیشہ اپنے چہرے پر مسکان رکھی ہے، ان کی وجہ سے ڈریسنگ روم میں مثبت ماحول رہتا ہے۔
شائے ہوپ کا کہنا ہے کہ ماضی کی پرفارمنس کو بھول کر بقیہ پی ایس ایل کو دیکھنا ہے، ملتان سلطانز ابھی بھی ٹورنامنٹ میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہم مواقع پر پرفارمنس دینے کی ضرورت ہے جس سے جیت مل جاتی ہے، ملتان سلطانز بقیہ میچز جیتنے کی کوشش کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کی پچ 200 رنز کی نہیں تھی، پشاورزلمی نے بہترین بیٹنگ کی، پشاور زلمی نے ویسی بیٹنگ کی جیسے ہمیں کرنی چاہیے تھی۔
شائے ہوپ نے یہ بھی کہا کہ ٹام کوہلر کیڈمور اور محمد حارث نے شاندار بیٹنگ کی، علی رضا باصلاحیت بولر ہیں، مستقبل میں پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شائے ہوپ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔