جے یو آئی کا 27 اپریل کو لاہور میں غزہ ملین مارچ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
جے یو آئی کی مرکزی کونسل نے مائنز اینڈ منرلز بل کی بھی مخالفت کر دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مسائل پر جے یو آئی اپوزیشن کی حمایت کرے گی، لیکن کسی اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔ ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے جن ارکان نے بلوچستان اسمبلی میں مائنز اینڈ منرل بل کی حمایت کی ہے، ان کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ رائیونڈ لاہور میں جمیعت علمائے اسلام کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس مولانا فضل الرحمن کی زیرِصدارت منعقد ہوا۔ ذرائع کے مطابق مرکزی کونسل کے اجلاس نے متفقہ فیصلہ کیا کہ حکومت مخالف تحریک جے یو آئی خود چلائے گی۔ جے یو آئی کی مرکزی کونسل نے مائنز اینڈ منرلز بل کی بھی مخالفت کر دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مسائل پر جے یو آئی اپوزیشن کی حمایت کرے گی، لیکن کسی اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے جن ارکان نے بلوچستان اسمبلی میں مائنز اینڈ منرل بل کی حمایت کی ہے، ان کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مائنز اینڈ منرلز بل کی حمایت کرنیوالے ارکان کا جواب غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں انہیں پارٹی سے نکالنے کا عندیہ بھی دیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فلسطین کے مسئلے پر تحریک چلائی جائے گی اور اسی سلسلے میں 27 اپریل کو لاہور میں غزہ ملین مارچ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا مائنز اینڈ جے یو ا ئی کی حمایت
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔