محکمہ تعلیم کی امبریلہ اسکیموں کے تحت تخمینہ لاگت اور مختص کردہ وسائل میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو اور ہر اسکیم مثر انداز سے مکمل ہو، وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اپریل2025ء)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی امبریلہ اسکیموں کی پیش رفت و بہتری سے متعلق اہم اجلاس پیر کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں جاری اور مجوزہ اسکیموں کی پیش رفت، شفافیت، اور مثر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان نے تمام اضلاع میں تعلیمی ضروریات کے حوالے سے ایک جامع اور منظم سروے کرانے کی ہدایت دی تاکہ حقائق پر مبنی منصوبہ بندی ممکن ہو سکے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی امبریلہ اسکیموں کے تحت تخمینہ لاگت اور مختص کردہ وسائل میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو اور ہر اسکیم مثر انداز سے مکمل ہو انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اضلاع جو تعلیمی میدان میں پسماندہ ہیں ان کو امبریلہ اسکیموں میں ترجیح دی جائے تاکہ تعلیمی عدم توازن کا خاتمہ ممکن ہو انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امبریلہ اسکیموں کے لیے دستیاب وسائل کی تقسیم ہر قسم کی مصلحت، دبا یا سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر صرف شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائے وزیر اعلی نے کہا کہ بنیادی سہولیات سے محروم اسکولوں کو ان اسکیموں میں اولین ترجیح دی جائے تاکہ نچلی سطح پر تعلیمی بہتری یقینی بنائی جا سکے وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی مثر نگرانی کے لیے ضلعی سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اور تمام اسکیموں میں شفافیت اور نتیجہ خیزی کو ترجیح دی جائے انہوں نے کہا کہ تعلیم سے جڑی اسکیموں میں مقامی کمیونٹی کی رائے اور ضروریات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے تاکہ منصوبے زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، مشیر بلدیات نوابزادہ بابا امیر حمزہ خان زہری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات حافظ عبدالباسط، پرنسپل سیکریٹری وزیر اعلی بابر خان، سیکریٹری تعلیم صالح محمد ناصر، سیکریٹری خزانہ عمران زرکون سمیت متعلقہ محکموں کے اعلی افسران نے شرکت کی ، وزیر اعلی نے تمام حکام پر زور دیا کہ تعلیمی میدان میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے ادارہ جاتی بہتری، شفاف طریقہ کار، اور موثر عمل درآمد پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر اعلی بلوچستان امبریلہ اسکیموں میر سرفراز بگٹی اسکیموں میں جائے تاکہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔