صدر اور وزیراعظم کی سلطان محمد گولڈن کو مبارکباد، سرفراز بگٹی 5 کروڑ روپے انعام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے عالمی ریکارڈ قائم کرنے پر سلطان محمد گولڈن کے لیے 5 کروڑ روپے انعام کا اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے سلطان محمد گولڈن کی جانب سے دو نئے عالمی ریکارڈ قائم کرنے پر انعام دینے کا اعلان کیا۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سلطان گولڈن نے عالمی سطح پر بلوچستان اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلطان محمد گولڈن نے ریورس ڈرائیونگ کا نیا ریکارڈ اپنے نام کرلیا
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سلطان محمد گولڈن کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے دن رات کوشاں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر باصلاحیت نوجوان کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، بلوچستان کا ٹیلنٹ صرف مواقع کا منتظر ہے۔
وزیراعظم کا خراج تحسیندوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ریورس کار ڈرائیونگ کا عالمی ریکارڈ توڑنے پر سلطان محمد گولڈن کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے سلطان گولڈن کی کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سلطان گولڈن نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تھل جیپ ریلی میں لیگی خاتون ایم پی اے اور ڈی سی لیہ کے درمیان ڈرائی فروٹس تنازع کیا ہے؟
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کھیلوں کے ہر شعبے میں تمام تر سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے تاکہ نوجوان عالمی سطح پر ملک کا نام مزید بلند کرسکیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی سلطان گولڈن کو عالمی ریکارڈ پر مبارکبادصدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ریورس ڈرائیونگ میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کرنے پر سلطان گولڈن کو مبارکباد دی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ سلطان گولڈن کی یہ کامیابی پاکستانیوں کے حوصلے، مہارت اور لگن کی عکاس ہے، جبکہ اس کارنامے سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص مزید مضبوط ہوا ہے۔
صدرِ مملکت نے سلطان گولڈن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں مزید کامیابیوں کے لیے دعا بھی کی۔
واضح رہے کہ سلطان گولڈن نے تیز ترین ریورس ڈرائیونگ میں ایک میل کا فاصلہ محض 57 سیکنڈ میں طے کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے قبل تیز ترین ریورس ڈرائیونگ کار کا ریکارڈ ایک امریکی اسٹنٹ مین نے 2022 میں قائم کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان ریورس ڈرائیونگ سرفراز بگٹی سلطان محمد گولڈن شہباز شریف وزیراعظم وزیراعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ریورس ڈرائیونگ سرفراز بگٹی سلطان محمد گولڈن شہباز شریف وزیراعلی عالمی ریکارڈ قائم سلطان محمد گولڈن ریورس ڈرائیونگ کہ سلطان گولڈن سرفراز بگٹی گولڈن کو گولڈن نے کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔