حکومت نے سمندرپار پاکستانیوں کی خدمات کے اعتراف میں بڑا پیکیج دیا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے سمندرپار پاکستانیوں کی خدمات کے اعتراف میں بڑا پیکیج دیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت سمندرپار پاکستانیوں کے امور پر خصوصی اجلاس ہوا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور متعلقہ سرکاری افسران بھی شریک ہوئے، شرکاء کو سمندرپار پاکستانیوں کےلیے سہولیات پر پیشرفت اور حکمت عملی بریفنگ دی گئی۔
دوران اجلاس وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سمندرپار پاکستانی بیرون ممالک پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کرتے ہیں، جن کی پاکستان کےلیے بڑی خدمات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ اوورسیز پاکستانی کنونشن میں سمندرپار پاکستانیوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی، ہم اُن کے جذبوں اور وطن کےلیے محبت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سمندرپار پاکستانیوں نے دنیا بھر میں محنت کرکے ملک کےلیے نام کمایا، جن کی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے بڑا پیکیج دیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر سول ایوارڈ دیا جائے گا، اسٹیٹ بینک کے ذریعے سب سے زیادہ سرمایہ بھجوانے والے پاکستانیوں کو سول ایوارڈ دیا جائے گا۔
شہبازشریف نے کہا کہ حکومت سمندرپار پاکستانیوں کے مسائل کے ترجیحی بنیادوں پرحل کےلیے کوشاں ہے، جن کےلیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سمندرپار پاکستانیوں
پڑھیں:
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جو دہشت گردوں کو وسائل فراہم کررہا ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بالکل ناکام ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،ہم نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں صرف عوام قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ اس میں ہماری لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز شامل ہیں، اس میں ہماری افواج پاکستان کے کڑیل جوان اور افسران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اب تک ہمارے 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اس جنگ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو انہیں وسائل بھی مہیا کررہا ہے اور اس میں دیگر فیکٹرز بھی ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بہادر بلوچوں اور پختونوں نے پاکستان کے قیام میں بڑا کردار ادا کیا، ترقی کے دوڑ میں جب تک چاروں صوبے مساویانہ طور پر شریک نہیں ہوں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا اور میں یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قبول کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی ترقی میں وفاقی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملے کی مذمت
دریں اثنا وزیرِاعظم نے کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے واقعے میں سب انسپکٹر سجاد الاسلام اور کسٹم کانسٹیبل جواد کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ اہلکاروں کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعہ سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، شرپسند عناصر کو کسی صورت ملک کا امن تباہ کرنے نہیں دیں گے۔