لاہور: سندر میں کار پر فائرنگ سے خاتون سمیت 6 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
لاہور:
سندر میں کار سوار فیملی پر فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے۔
واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں حاجی نواز، ان کی اہلیہ حاجن کلثوم، بیٹا ندیم نواز، بھائی ملک ناصر، سیکورٹی گارڈ شاہد عباس اور اویس محمود شامل ہیں۔
دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گزشتہ شب پیش آیا جب حاجی نواز اپنی فیملی کے ہمراہ گاڑی میں سوار تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق گاڑی کو مرتضیٰ عرف پپو نے کٹ مارا، جس پر تلخ کلامی ہوئی اور بعدازاں حملہ کر دیا گیا۔
واقعہ کا مقدمہ نمبر 1383/25 محمد نواز کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس میں 12 کے قریب ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جن میں ملک مرتضیٰ عرف پپو، ملک مصطفی عرف کالو، علی مرتضیٰ، خضر، عنصر، اسد اور دیگر شامل ہیں۔
پولیس نے چار ملزمان مرتضیٰ، طاہر عباس، علی مرتضیٰ اور محمد رستم حیات کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ ایس پی صدر ڈاکٹر غیور احمد خان نے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی ہدایت پر اسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ دو مخالف گروپوں مرتضیٰ عرف پپو گروپ اور نواز عرف گڈو جلیانیا گروپ کے درمیان جھگڑا ہوا تاہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے اور تفتیشی ٹیموں نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث تمام افراد کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔