اپوزیشن اور قوم پرست جماعتیں عوام میں اضطراب نہ پھیلائیں‘چولستان کینال منصوبے پر کاپچھلے سال سے رکا ہوا ہے.مرادعلی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 اپریل ۔2025 )سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپوزیشن اور قوم پرست جماعتوں سے عوام میں اضطراب نہ پھیلانے کی درخواست کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ چولستان کینال منصوبے پر کام گذشتہ سال جولائی سے رکا ہوا ہے جبکہ سندھ کے اعتراض کی وجہ سے قومی معاشی کونسل میں اس منصوبے کی منظوری نومبر سے رکی ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر معاملات ہمارے ہاتھ سے نکلے تو ہر قسم کی کال دیں گے.
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ نہروں کی تعمیر کے معاملے پر سب سے پہلے ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا تھا سندھ حکومت یہ کینال کبھی بننے نہیں دے گی کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے پنجاب حکومت کا نام لیے بغیر اس پر چولستان کینال کا یکطرفہ افتتاح کر کے سندھ کے لوگوں میں بدگمانی پیدا کرنے کا الزام لگایا. انہوں نے کہاکہ سب کو پتا لگ چکا ہے منصوبے کا جو افتتاح کیا گیا تھا وہ حقیقتاً افتتاح بھی نہیں تھایاد رہے کہ گذشتہ ماہ کے آغاز میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے چولستان منصوبے کا افتتاح کیا تھا مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ منصوبے کو روکنے پر وہ وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں تاہم ان سے شکوہ ہے کہ اس پراجیکٹ کو اب تک ختم کیوں نہیں کر دیا گیا. انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کو اندازہ ہے معاملات درست نہیں چل رہے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی اور فوڈ سکیورٹی کے مسائل کینال بنا کر نہیں بلکہ پیداوار اورپانی کے بہتر استعمال سے حل کیے جا سکتے ہیں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس معاملے وفاقی حکومت کی جانب سے رابطے کیے گئے ہیں اورمیں امید کرتا ہوں کہ وزیر اعظم انصاف سے کام لیں گے. دوسری جانب اپوزیشن اور قوم پرست جماعتیں چولستان کینال پراجیکٹ پر پیپلزپارٹی کے موقف کو مرکزمیں اس کی اتحادی حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے ساتھ گٹھ جوڑقراردے رہے ہیں ان کا کہنا ہے جب جولائی 2024میں صدر آصف علی زرداری نے اجلاس میں صدارتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے نہروں کے منصوبے کی منظوری دی تھی اس وقت پیپلزپارٹی کو” اصولی موقف“یاد کیوں نہیں رہا؟. انہوں نے کہا کہ آج صدرمملکت کے صاحبزادے بلاول بھٹوزرداری اور پیپلزپارٹی کی مرکزی لیڈرشپ اچانک محترک کیوں ہوگئی ہے؟ان کا کہنا ہے کہ اصل میں پیپلزپارٹی قوم پرست اور اپوزیشن کی جانب سے سندھ بھر میں ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کی کامیابی سے خوفزدہ ہوگئی ہے اور اسے سندھ اپنے ہاتھوں سے نکلتا نظرآرہا ہے اس لیے پیپلزپارٹی اپنی ہی جماعت کے شریک چیئرمین اور صدرمملکت کے فیصلے کے خلاف نام نہاد احتجاج ‘بیانات اور جلسوں کے ذریعے سندھ کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چولستان کینال کا کہنا ہے انہوں نے سندھ کے علی شاہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔