ایک ہی اداکار کیساتھ ماں، بہن، بیوی اور محبوبہ کا کردار نبھانے والی اداکارہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
بھارتی سنیما کی رنگین اور وسیع دنیا میں بے شمار اداکار جوڑیوں نے ناظرین کے دل جیتے ہیں۔
شیو جی گنیسن اور سروجادیوی، شاہ رخ خان اور کاجول، امیتابھ بچن اور جیا بچن جیسے مشہور جوڑوں نے فلمی دنیا میں یادگار فلمیں پیش کی ہیں۔
تاہم ان میں سے زیادہ تر نے چند فلموں میں ہی ایک ساتھ کام کیا، لیکن ایک جوڑا ایسا بھی ہے جس نے اپنی ایک ساتھ فلموں کی تعداد اور مقبولیت کے اعتبار سے باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔
یہ اعزاز ملیالم سنیما کے لیجنڈری اداکار پریم نذیر اور اداکارہ شیلا (جنہیں پیار سے ’سیمی شیلا‘ کہا جاتا ہے) کو حاصل ہے۔
اس جوڑی نے ایک ساتھ حیران کن طور پر130 فلموں میں کام کیا اور اس انوکھے کارنامے نے انہیں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ دلائی۔
شیلا نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز تمل فلم انڈسٹری سے کیا، جہاں انہوں نے 1962 میں لیجنڈری اداکار ایم جی رام چندرن کے ساتھ فلم ‘پاسم’ میں ڈیبیو کیا۔
اسی عرصے میں انہیں پہلی مرتبہ ملیالم فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی، جو ان کے شاندار فلمی سفر کی شروعات ثابت ہوئی۔
پریم نذیر کے ساتھ ان کی پیشہ ورانہ شراکت نے ملیالم سنیما کو ایک نئی شناخت دی، دونوں نے مختلف کرداروں میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل اداکاری کی۔
فلموں میں پریم نذیر کے ساتھ شیلا کبھی محبوبہ، کبھی بیوی، کبھی بہن اور حتیٰ کہ ماں کے روپ میں بھی نظر آئیں۔
شیلا کی اداکاری کی صلاحیت کا ایک حیرت انگیز مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب ایک ہی دن میں انہوں نے 4 مختلف فلموں کی شوٹنگز کیں، جو تمام چنئی میں ہوئیں۔
انہوں نے صبح کے وقت پریم نذیر کی محبوبہ، دوپہر میں بیوی، شام میں بہن اور رات کو ماں کا کردار ادا کیا، ان تمام مناظر کے درمیان صرف 2، 2 گھنٹے کا وقفہ تھا، یہ آج بھی بھارتی سنیما کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ مانا جاتا ہے۔
شیلا نے 1983 میں فلمی دنیا کو خیر باد کہا، لیکن اس وقت تک وہ ساؤتھ انڈیا کی سب سے قابلِ احترام اور کامیاب اداکاراؤں میں شمار ہونے لگی تھیں۔
پریم نذیر جنہوں نے 700 سے زائد فلموں میں کام کر کے ایک ناقابلِ یقین ریکارڈ قائم کیا، 1989 میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، بعد از مرگ انہیں پدما بھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا۔
شیلا اور پریم نذیر کی جوڑی بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ میں سب سے زیادہ فلموں میں ایک ساتھ کام کرنے والے جوڑے کا منفرد اعزاز رکھتی ہے۔
ان کا یہ لازوال اشتراک آج بھی فنکاروں اور فلم بینوں کے لیے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے، جو سنیما کے سنہری دور کی علامت بھی ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔