تمام بھارتی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک بدر کیا جائے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری حالیہ تناؤ کے تناظر میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ تمام بھارتی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر 48 گھنٹوں میں ملک بدر کیا جائے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملکی وقار کی خاطر اس وقت بھارت کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، یہ بھی پلوامہ طرز کا ایک فالس فلیگ آپریشن ہے جس کا مقصد پاکستان کو دہشت گردی کی پناہ گاہ کے طور پر بدنام کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر: نامعلوم افراد کا سیاحتی مقام پر حملہ، 27 افراد ہلاک
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم ان بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جن کی عالمی دنیا میں کوئی وقعت اور حیثیت نہیں اور یہ صرف جھوٹ کا ایک پلندہ ہے، پہلگام واقعہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اپنے ریاستی سرپرستی کے تحت ہونے والے جبر اور جنگی جرائم چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پورے خطے میں سیاسی اور مذہبی دہشتگردی پھیلانے میں بھارت کے کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، بین الاقوامی برادری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پہلگام واقعہ کیا اور اب اس کو بنیاد بنا کر جنگی ماحول پیدا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پہلگام حملہ: آئی پی ایل میں آتش بازی نہیں ہوگی، کھلاڑی سیاہ پٹیاں باندھیں گے
بار ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا ہے کہ پاک فوج کسی بھی قسم کے حملے کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور پاکستان اور پاکستان کی وکلا برادری کشمیری بھائیوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعلامیہ انڈیا پہلگام حملہ دہشتگردی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلامیہ انڈیا پہلگام حملہ دہشتگردی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یہ بھی
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں