کمانڈر ایئر فورس زمبابوے ایئر مارشل جان جیکب نزویدے کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزاسے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )کمانڈر ایئر فورس زمبابوے ایئر مارشل جان جیکب نزویدے جو کہ پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (CJCSC) جنرل ساحر شمشاد مرزاسے جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں فوجی رہنماؤں نے سلامتی اور دفاع میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (CJCSC) جنرل ساحر شمشاد مرز نے زمبابوے کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی تعریف کی اور موجودہ دفاعی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے باہمی عزم پر زور دیا۔
پاک بھارت کشیدگی، سابق سفیر عبدالباسط نے بلوچستان میں دہشتگردی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا
آئی ایس پی آر کے مطابق معزز مہمان نے پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو سراہا۔
قبل ازیں جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر سہ فریقی دستے نے زمبابوے کی فضائیہ کے کمانڈر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
عمران خان سے ملاقات کے لیے افواج پاکستان کے 4ریٹائرڈ سینئر افسران کی درخواست دائر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔